منسوب لا الہ سے محبت حسین کی اسلام کے لیے ہے شہادت حسین کی نیزوں کے درمیان عبادت حسین کی ہر آنکھ دیکھتی ہے امامت حسین کی شبیر کا الہ کو بچانے میں ہاتھ ہے پروردگار شکر گزاروں میں ساتھ ہے عبید رضا عباس
اگر نہ آئیں تو جبراً بہائے جا آنسو غموں کے دن ہیں خوشی کا نہ انتظار کرو عبید رضا عباس
تو لاکھ ڈھونڈ لے لیکن مرا یہ دعوی ہے حسین جیسا کوئی دوسرا نہیں ملنا عبید رضا عباس
مَیں بھیجتا ہوں تبرا یزید پر لیکن بے وجہ آپ کے ماتھے پہ کیوں شکن آئے عبید رضا عباس
نہ ایک لمحہ گنوا بے شمار کرنے میں لعیں کے واسطے لعنت میں سوچنا کیسا عبید رضا عباس
با خدا مجھ کو کائنات پسند غمِِ شبیر سے زیادہ نہیں حر مزاجوں کو علم ہے حق کا جس طرف حق کا کاروان، وہیں عبید رضا عباس
اتر آتا ہے آنکھوں میں احساس جب تصور میں کربلا آئے ع ر ع
شدتِ پیاس سامنے رکھ کر نم ہیں آنکھیں حسین والوں کی ع ر ع
کر طلب "بابِ علم" سے خیرات علم لازم ہے شاعری کے لیے عبید رضا عباس ؔ
ایک ہی دُھن پسند ہے مجھ کو میں ہر ایک ساز پر نہ جھوموں گا عبیدؔ رضا عباس
"عبیدؔ سچ بتا کر شرم سار ہوتا ہوں"
غیروں کو چھوڑ، اپنے بھی اپنے نہ بن سکے نظروں میں ان کی، آج تک اچھے نہ بن سکے عبید رضا عباس
دیکھئے ہر معاملے میں دوست آزمانا تو یوں نہیں اچھا ع ر ع
سانس چلتی ہے نہ چلنے کی طرح تو نہیں ساتھ تو جینا کیسا عبید رضا عباس
ہر اک جگہ مجھے بدنام کر رہے ہیں آپ بھلے کی آپ سے بالکل مجھے امید نہیں عبید رضا عباس
یہ دل نہیں ہے جو اچھا برا سمجھ پائے دماغ ہے یہ غلط کے بھی پاس لے جائے ع ر ع
بخت پر جب زوال آئے تو ہاتھ مَلنا نصیب ہوتا ہے ع ر ع
کبھی اپنے کہے سے مکرا ہوں کوئی یہ بات کہہ نہیں سکتا ع ر ع
امر حسین نے کربل میں کر دکھایا ہے وگرنہ عشق کے میدان میں بڑے اترے عبید رضا عباس
اس زمانے کی ٹھوکریں کھا کر دل سمجھدار ہو گیا آخر عبید رضا عباس