.♡. غزل .♡. میں خوش رہا ہوں ہمیشہ ہی بندگی کے ساتھ ملا نہ تال تمنا کا زندگی کے ساتھ ..... میں سوچتا ہوں کہ کس کس کو چھوڑتا جاؤں ہر ایک نے کیا کھلواڑ زندگی کے ساتھ ..... بجھا رہی ہے چراغوں کو کس لیے آ کر کوئی جلن تو ہوَا کو ہے روشنی کے ساتھ ..... زمانہ دیکھ کے حیران ہو رہا ہے عبید کھڑا ہوں ساتھ تمھارے میں مخلصی کے ساتھ ..... عبید رضا عباس
صبح سے شام تلک ساتھ نبھاتا ہوں میں ان کے ہاں مجھ کو میسر نہ اماں ہوتی ہے ..... دل کی دھک دھک نے سنبھلتے ہوئے پوچھا اکثر کیا موذن کی بلند اتنی اذاں ہوتی ہے ..... جن کو ملتی ہے وسائل میں خوشی کی دولت لہر خوشیوں کی لگاتار وہاں ہوتی ہے ..... کہہ کے چھوڑا ہے جسے اس کو بلانا نہیں پھر مرد کی شان میں شامل ہی زباں ہوتی ہے ..... بعد مرنے کے کہیں لوگ, "بڑا اچھا تھا" ... قدر جیتے جی زمانے میں کہاں ہوتی ہے ..... عبید رضا عباس
قطعہ تو جو بھی ہے مگر اتنا تو جانتا ہوں مَیں ترے مزاج میں شامل عداوتیں ہی ہیں وفا کی مشک نے مجھ کو تھکا دیا اتنا عبید کرنے کو بس اب بغاوتیں ہی ہیں ..... عبید رضا عباس
تازہ کلام پیشِ خدمت ہے . ............. شر سے بچنے کا ایک رستہ ہے جو جہاں ہے وہاں وہ اچھا ہے ..... جلتا رہ جائے گا جہاں سارا ساتھ جب تک مجھے تمھارا ہے ..... جو مناسب ہو فیصلہ کر لو دوستی میں اگر خسارا ہے ..... میں مہکتا ہوں تیرے ہونے سے پھول خوشبو کا استعارہ ہے ..... سجدہ شکر لازمی ہے , کرے جس کے حصے عبید سارا ہے ...... عبید رضا عباس
یاد آتا ہے تو لعنت کے لیے ظلم کی عمر زیادہ تو نہیں خوف کو پیاس نگل سکتی ہے ہوں میں پیاسا مگر اتنا تو نہیں پیاس کو نامِ معلی نہ کیا میں (عبید) اتنا بھی پیاسا تو نہیں عبید رضا عباس
فیصلہ دل کا آ گیا آخر بھول جانا ہی اس کو بہتر ہے راہِ حق سب کی جستجو ٹھہری جہاں مسجد وہیں پہ مندر ہے ہم سے کہہ دیں کہ منتظر ہیں ہم بات خفیہ جو دل کے اندر ہے عبید رضا عباس