آپ خوشحال ہیں , مبارک ہو
ساتھ ہمرے تو بس اداسی ہے
عبید رضا عباس
خواہشوں سے نہ بن سکی میری
مجھ کو محرومیاں ہی کافی ہیں
عبید رضا عباس
جھوٹے پیمان باندھنے والے
تم سے ہم نے ہزار دیکھے دیکھے ہیں
عبید رضا عباس
ساتھ رہ کر بھی آشنا نہ ہوئے
مجھ کو میری انا نے روکا ہے
اس نے بھی لی نہیں خبر میری
عبید رضا عباس
کیوں نہیں سوچتے یہ بات سبھی
سب کے سوچوں میں کیوں تغیر ہے ؟
عبید رضا عباس
اک ملاقات میں کوئی بھی عبید
آدمی کو پرکھ نہیں سکتا
عبید رضا عباس
تین ڈرپ پانچ انجیکشن کے باوجود طبعیت میں سدھار نہیں آیا .
جاہلوں کو خبر نہیں اس کی
قوم بنتی ہی رہنما سے ہے
عبید رضا عباس
جیسے زبان اور بولی دو الگ چیزیں ہیں .
اسی طرح
قوم اور پیشہ بھی دو الگ چیزیں ہیں .
مجھ کو بے حال دیکھ تنہائی
روپ دھارے ہے قافلے جیسا
عبید رضا عباس
وطن کا عشق رکھا ہے ہماری گھٹی میں