لگا کے آگ "پھر مکر جانا" ء
یہ وطیرہ تو خاص و عام کا ہے
عبید رضا عباس
دل ہی جانے ہے فیصلہ اپنا
کیوں ترا انتظار کرتا ہے
عبید رضا عباس
تیرے آداب تکلم ہیں نرالے اتنے
نا سمجھ کو بھی سمجھ آئے ہے سمجھانا ترا
عبید رضا عباس
بھیج رہبر , جو ان کو سکھلائے
اس زمیں پر بہت جہالت ہے
عبید رضا عباس
عرض کرنے کا کچھ سلیقہ ہو
جو بھی حسرت کے رو برو آئے
عبید رضا عباس
مجھ کو امثال سے نہ سمجھائیں
ٹوٹنا دل کا جانتا ہوں میں
عبید رضا عباس
آپ میں کیا صفتِ یزداں ہے ؟
مجھ کو بس دیکھ کے جانا کیسے؟
عبید رضا عباس
بچھڑ کے آپ سے مدت گزر گئی لیکن
ملن کا دل کو ابھی انتظار رہتا ہے
عبید رضا عباس
نہ حد سے بڑھ کے زمانے کی مَیں ہوا لوں گا
جو سچ میں ہوں مَیں , دکھائی بھی اس طرح دوں گا
عبید رضا عباس
خوش ہوا ہے وہ آزما کر مجھے
وہ بھی اوروں کی طرح حقدار تھا
عبید رضا عباس
حُسن والوں کا دبدبہ دیکھو
مجھ کو آنکھیں بڑی دِکھاتے ہیں
عبید رضا عباس
مجھ سا ایک گُن نہیں "عبید" ان میں
آپ جن سے مجھے ملاتے ہیں
عبید رضا عباس
تُو تو اپنا بھی خیر خواہ نہیں
تجھ سے امید رکھ نہیں سکتا
عبید رضا عباس
درپیش یوں تو مجھ کو رہے مسئلے ہزار
لیکن کسی محاذ سے بھاگا نہیں ہوں میں
عبید رضا عباس
عقیدتا شعر
.
پڑھ فضائل حیدرِ کرار کے
جھومنے کو سر, بہانا چاہیے
.
عبید رضا عباس
کیوں نہ دو چار ذلتوں سے ہو
حد میں رہنا جسے نہیں آتا
عبید رضا عباس
"دنیا سدھر نہیں رہی, اس کا ہے غم مجھے"
نہ بنی مجھ سے , چلو خیر سہی
غیر کا ہو کے خوشی ہے اس کو ؟
عبید رضا عباس
بس میں رکھے ہیں اناؤں کے پہاڑ
اس کا نخرہ تو کوئی چیز نہیں
عبید رضا عباس
یہاں جھوٹ بولنے والوں کی تعداد بہت ہے جبکہ سچ بولنے والے بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں ـ
ایسا کیوں?
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain