غزل _ _ _ مجھے یہ حق نہیں مَیں سب کی نیکیاں تولوں تمنا ہے کہ مَیں اب خود تو آئنہ ہو لوں کروں گا بعد میں کچھ تذکرہ مرا تیرا مَیں اپنے آپ سے پہلے تو رو برو ہولوں چپک گیا ہے یہ مزدور کے لبوں سے گلہ سکونِ شب ہو میسر کبھی, تو مَیں سو لوں یہاں ہر ایک کو خطرہ ہے جان جانے کا ہر ایک بات کو کھولوں تو کس طرح کھولوں سروں پہ تیغ کے سایوں کو دیکھ کر اکثر عبید سوچتا رہتا ہے سچ کہاں بولوں _ _ _ عبید رضا عباس