سچ میں ہے کون مددگار عبید
وقت آنے پہ پتا چلتا ہے
عبیدؔ رضا عباس
نظم ـ
ـ
کیا کہوں دل سے،
جانتا ہے
فرق اپنے پرائے کا
پھر نجانے یہ پوچھتا کیوں ہے
کون آیا مصیبتوں کے وقت
ساتھ دینے ترا اذیت میں
ـ ـ ـ
عبید رضا عباس
ہر اک عبید ٹھیک ہے اپنی جگہ اگر
سوچوں میں اختلاف تو روزِ ازل سے ہیں
عبید رضا عباس
ایک مطلع ایک شعر
راستہ جب عجیب آئے گا
خود بخود ذہن حل تلاشے گا
ـ
ـ
چاہتوں کا خمار محفل میں
شعر کہہ کر 'عبید' لائے گا
ــ
عبید رضا عباس
ایک بیت
ـ
ہم عروج و زوال کے ہمراہ
دیکھ بیٹھے ہیں بندگی کر کے
عبید رضا عباس
پاؤں پھیلائیے بھلے جتنے
آپ چادر کا بس خیال رکھیں
ـــ
دوست دشمن کی منصفی کے لیے
جج فقط مجھ سا خوش جمال رکھیں
ــ
جو برا راستہ ہے اس کے لیے
خوف کا صرف احتمال رکھیں
ـ
عبید رضا عباس
اوکھے ویلے دی جگ تے کوئی ٹیک نئیں
مطلبی لوکاں دی سنگتاں چھوڑ دے
عبید رضا عباس
بتا رہا ہوں خدا کو بڑے تعجب سے
ترے عبید کا، دشمن خیال رکھتے ہیں
عبید رضا عباس
کون اب تک غلط نظر آیا..
بھول پہچاننے میں ہوتی ہے
عبید رضا عباس
پہلے شاگرد ہونا پڑتا ہے، زانوئے تلمذ تہ ہوں گے تب جا کے محنت اور لگن سے شاگرد، استادی کے درجے پہ پہنچتا ہے.

تم ادھورے، تمام مَیں بھی نہیں
خاص ہو تم تُو عام مَیں بھی نہیں
عبید رضا عباس
تب ہی دنیا کی ہے خبر مجھ کو
مَیں کتابوں میں قید رہتا ہوں
عبید رضا عباس
مت سنا مخلصی کا راگ ہمیں
رہنے والے اسی جہان کے ہیں
عبید رضا عباس
نئی رمز (محاورے کے الٹ) ء
کیوں کنواں ان کے پاس آئے گا
کام تلچھٹ سے جن کا چلتا ہے
.
عبید رضا عباس
جسے بھی خود سے زیادہ عزیز رکھا ہے
ہمارے واسطے وہ ہی وبالِ جان بنا
عبید رضا عباس
وہ ہی جانے ہے بچھڑنے کا سبب
فیصلہ اس نے اچانک کر لیا
عبید رضا عباس
سر پہ قدرت کا ہاتھ ہوتا ہے
حادثہ سب کے ساتھ ہوتا ہے
عبید رضا عباس
کیوں تجاوز ہیں خواہشیں حد سے
خواب نگری کی تم پری ہو کیا؟
عبید رضا عباس
لب ہلے تو "عبید" اندر کی
جیسی تاثیر تھی , اُبل آئی
..
خاک پائے بزرگانِ ادب
عبید رضا عباس
تیرے آداب تکلم ہیں نرالے اتنے
نا سمجھ کو بھی سمجھ آئے ہے سمجھانا ترا
ع ر ع
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain