آج کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے، یوں کیجئے سمجھ لیجیے.😒
چھوڑ دیجیئے عالمِ غم کو میرے
...🙄😒✍️
آپ دغا دیجیئے اپنا کام کیجئیے!
🥀.
صرف ہاتھ ہی نہیں _____ الفاظ بھی سہارا بنتے ہیں..!!!
جہاں ہاتھ نہ پکڑ سکیں ,وہاں لفظوں سے تهام لیا کریں.💔
عورت کو عزت دینا خوبصورت کہنے سے بہتر ہے 🥀
دنیا میں خوشی ملنا
جزاء نہیں
اور غمی ملنا سزا نہیں ..
..
دنیا دارالجزاء نہیں دارالامتحان ہے
.
حقیقت تو یہ ہے کہ خوشی اور غم دونوں ہی امتحان ہیں۔
🌹🌸🌹
صرف انسان ہونا کافی نھی بے
❤️✍️
انسان کہ اندر انسانیت کا ہونا بھی ضروری
ہے____!
اے دسمبر __ تیری یخ بستگی میں بھی
..✍️
طلب اس کی آخر کیوں منجمد نہیں ہوتی
..
🍁"کون سا دکھ بتاوں آپ کو
ہر دکھ میں مبتلا ہوں میں"❤☺
مجھے پاگلوں سے --- دوستی کرنا پسند ہے
❤
کیونکہ مشکل میں کوئی سمجھدار کام نہیں آتا..
ڪا رات وِڃائي راھُن ۾، ڪُو ڏينھن کُٽائي رستن تي،
.........
بي فيض اُڃايلَ مُوٽياسين، سڀُ خوابَ لُٽائي رستن تي.
پہلے لگتا تھا صرف تُم ہی دُنیا ہو،،،❣️
اب سمجھ آیا تُم بھی دنیا ہو💔
_____________________
وہ
میری روح کی چادر میں
آ کے چھپ گیا ایسے۔۔؟
کہ
اب روح نکلے
تو وہ نکلے ،
جو وہ نکلے
تو روح نکلے۔۔۔۔!!!!
الفاظ تو درجہ دوم پہ آتے ہیں
اول یہ کہ ہم تیرے لہجے کی تلخی نہیں بھولے.
اس طرح سے کہو گے جانے کا !
اس طرح سے تو جان جاتی ہے 🖤
حاسدوں کی نظروں سے بچا کرو، یقین کرو یہ ہنستا کھیلتا انسان کھا جاتے ہیں 💔
تمہاری آنکھوں کی جھیل میں
خوابوں کے پرندے اترتے ہونگے
ایک میں ہی نہیں دنیا میں
تم پر لاکھوں لوگ مرتے ہونگے
میں جو کہتا ہوں کرتا نہیں ہوں
لوگ جو کہتے ہیں کرتے ہونگے؟
راشد آدرش
Good Night 🌃 Pakistan 🇵🇰
*خربوزہ خربوزہ سے رنگ پکڑتا ھے... جن کے ساتھ رھوگے گھومو کےپھروگے ان کی ھی طرح بن جاؤگے.....
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
.
تم مری آنکھ کے سمندر میں
تم مری روح کے اجالوں میں
.
پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میں
کون آیا مرے خیالوں میں
.
میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا
تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں
.
میری خوشیوں کی کائنات بھی تو
تو ہی دکھ درد کے حوالوں میں
.
کیا اسے یاد آ رہا ہوں وصیؔ
رنگ ابھرے ہیں اس کے گالوں میں
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
.
امیدوار وعدۂ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
.
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
.
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
.
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
.
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
.
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر
کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain