نہیں وسواس جی گنوانے کے
ہائے رے ذوق دل لگانے کے
.
میرے تغییر حال پر مت جا
اتفاقات ہیں زمانے کے
.
دم آخر ہی کیا نہ آنا تھا
اور بھی وقت تھے بہانے کے
.
اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیں
ڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے
.
بس ہیں دو برگ گل قفس میں صبا
نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے
.
مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحب
بندے ہیں اپنے جی چلانے کے
کب تلک جی رکے خفا ہووے
آہ کریے کہ ٹک ہوا ہووے
.
جی ٹھہر جائے یا ہوا ہووے
دیکھیے ہوتے ہوتے کیا ہووے
.
کر نمک سود سینۂ مجروح
جی میں گر ہے کہ کچھ مزہ ہووے
.
کاہش دل کی کیجیے تدبیر
جان میں کچھ بھی جو رہا ہووے
.
مر گئے ہم تو مر گئے تو جی
دل گرفتہ تری بلا ہووے
.
پھر نہ شیطاں سجود آدم سے
شاید اس پردے میں خدا ہووے
.
نہ سنا رات ہم نے اک نالہ
غالباً میرؔ مر رہا ہووے
ہوا جفاؤں کی ایسی چلا گیا کوئی
چراغ میری وفا کا بجھا گیا کوئی
.
نہ کوئی نقش قدم ہے نہ منزلوں کا پتا
یہ راستہ مجھے کیسا دکھا گیا کوئی
.
اسی امید پے میں انتظار کرتی رہی
میں لوٹ آؤنگا کہ کر چلا گیا کوئی
.
تمام عمر کے احساں بھلا دۓ اس نے
ذرا سی بات پے ہو کر خفا گیا کوئی
.
اب اس سے بڑھکے بھلا بے وفائی کیا ہوگی
ہنسایا جس نے اسی کو رلا گیا کوئی
.
کسی کے عشق میں سب کچھ لٹا دیاوشمہ
دل و دماغ پے اس طرح چھا گیا کوئی
بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی
تمام عُمر مِری اِنتظار جیسی تھی
.
حیات کیا تھی، فقط اِنتشار میں گُزری
گہے تھی زخم سی گاہے قرار جیسی تھی
.
مِلا ہُؤا مِری چائے میں رات کُچھ تو تھا
کہ شب گئے مِری حالت خُمار جیسی تھی
.
تُمہاری یاد کی خُوشبُو کے دائروں میں رہا
اگرچہ زرد رہی، پر بہار جیسی تھی
.
تُمہارے ہِجر کے موسم میں، کیا کہُوں حالت
کبھی اُجاڑ، کبھی تو سِنگھار جیسی تھی
.
رہی ہے گِرد مِرے حلقہ اپنا تنگ کِیئے
حیات جیسے کِسی اِک حِصار جیسی تھی
.
وہ رات جِس سے میں شب بھر لِپٹ کے روتا رہا
رشِیدؔ شب تھی مگر غمگُسار جیسی تھی
کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو
.
منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو
.
مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو
.
صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو
.
ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو
.
میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو
کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا
ٹوٹے پڑے تھے آئنے پتھر نہیں ملا
.
پتھر کے جیسی بے حسی اس کا نصیب ہے
وہ قوم جس کو کوئی پیمبر نہیں ملا
.
جب تک وہ جھوٹ کہتا رہا سر پہ تاج تھا
سچ کہہ دیا تو تاج ہی کیا سر نہیں ملا
.
ہم رات بھر جلیں بھی تمہیں روشنی بھی دیں
ہم کو چراغ جیسا مقدر نہیں ملا
.
شہر ستم بھی جشن اماں مت منا ابھی
شاید ستم گروں کو ترا گھر نہیں ملا
.
داناؔ وہ اب بھی آتا ہے تنہائیوں میں یاد
دنیا کی بھیڑ میں جو بچھڑ کر نہیں ملا
مجھے بھول جانے والے تجھے یاد کر رہا ہوں
اشکوں سے اپنی راتیں برباد کر رہا ہوں
.
سلگتا ہوا ہے ماضی پرچھائیوں کے در پر
خود کو ستا کے دل کو ناشاد کر رہا ہوں
.
دل توڑ کے توں نے ظالم کیسا ستم کیا ہے
زخمائے ہوئے ٹکڑوں کو بے تاب کر رہا ہوں
.
گمنام سے سفر کی کب شام یہ ڈھلے گی
ہر راہ کی گھٹن کو سیراب کر رہا ہوں
.
پتھرا گئی تھیں آنکھیں سنگلاخ راستوں پے
دھلا گئیں ہیں نظریں کہرام کر رہا ہوں
وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
وہ فاصلے بھی گئے اب وہ قربتیں بھی گئیں
.
دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں
.
لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے
ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں
.
غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا
وہ جرأتیں بھی گئیں وہ جسارتیں بھی گئیں
.
نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل
ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں
.
دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار
سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں
اکیلے رہنے کی خود ہی سزا قبول کی ہے
یہ ہم نے عشق کیا ہے یا کوئی بھول کی ہے
.
خیال آیا ہے اب راستہ بدل لیں گے
ابھی تلک تو بہت زندگی فضول کی ہے
.
خدا کرے کہ یہ پودا زمیں کا ہو جائے
کہ آرزو مرے آنگن کو ایک پھول کی ہے
.
نہ جانے کون سا لمحہ مرے قرار کا ہے
نہ جانے کون سی ساعت ترے حصول کی ہے
.
نہ جانے کون سا چہرہ مری کتاب کا ہے
نہ جانے کون سی صورت ترے نزول کی ہے
.
جنہیں خیال ہو آنکھوں کا لوٹ جائیں وہ
اب اس کے بعد حکومت سفر میں دھول کی ہے
.
یہ شہرتیں ہمیں یوں ہی نہیں ملی ہیں شکیلؔ
غزل نے ہم سے بھی بہت وصول کی ہے
مجھے جینا ہے اس کے ساتھ
دل مرنے کی باتیں کیوں کرتا ہے !
مــون ۾ ائين تـون رھندي آھين
اکڙين ۾ جيئن خــواب رھــن ٿا
راشــد آدرش
جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب!
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا۔
عبداللہ علیم
آنکھیں بند ہونے سے پہلے اگر کھل جائیں تو زندگی سدھر جاتی ہے!
جس کے حصے میں رات آئی ہے__
اُس کے حصے میں چاند بھی ہوگا..
تو جو ہے جان، تو جو ہے جاناں،
تو ہمیں آج تک ۔۔۔ ملا ہی نہیں!!
جون💔
صرف دِن ڈھلنے پہ موقوف نہیں ہے "محسن"
زندگی زُلف کے سائے میں بھی شب کرتی ہے
ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہرا
خامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح🥀
یہ چند سانسوں کی فرصت بڑی غنیمت ہے
کسے خبر ہے کہ، پھر حادثے ٹلیں نہ ٹلیں
احمد فراز
ہم خلد سے ٹھکرائے ہوئے لوگ ہیں سو
اب وہاں دل نہ لگے گا اگر جائیں گے
تشویـشِ مصـور تهی کہ شاہکـار نم نہ ہو
ارادہء گوہــر تها کچـھ پهسـل کے دیکهیے 🥀
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain