Good night 🌃 Pakistan 🇵🇰
تم ظرف میں بھی کم ظرف تھے...
تم ذات میں بھی بد ذات نکلے..
میں ساز حقیقت ہوں ، دمساز حقیقت ہوں
خاموشی ہے گویائی ، گویائی ہے خاموشی.
خدا سان عشق جی دعوا کئی آ ان ....!
جنن وٹ قدر نہ آهی انسان جو.
اکين جو عشق اڄ ڪير ٿو ڄاڻي
نه تون ٿو ڄاڻين نه ھو ٿو ڄاڻي.
آپ آتے ہیں جس خیال میں
ہائے، میں اس خیال کے صدقے
انائیں اہم ہیں فی الوقت
محبت، پھر سہی جاناں
*کمبخت نام کیوں لیتے ہو چائے کا...*
🍵☕☕
*"اشرف المشروبات "نہیں کہہ سکتے...🤨
مر جاؤں ! دل تو میرا بھی بہت ہے
..
مگر ہائے وہ قبر کا عذاب
💔
حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے
قابل اجمیری
دعا میں التجا نہیں تو عرضِ حال مسترد
سرشت میں وفا نہیں تو سَو جمال مسترد
.
ادب نہیں تو سنگ و خشت ہیں تمام ڈگریاں
جو حُسنِ خلق ہی نہیں تو سب کمال مسترد
مبارک صدیقی
فریاد کے تقاضے ہیں نغمہِ سخن میں
الفاظ سو گئے ہیں کاغذ کے پیرہن میں
.
ہر آن ڈس رہی ہیں ماضی کی تلخ یادیں
محسوس کر رہا ہوں بیچارگی وطن میں
.
ٹکڑا کوئی عطا ہو احرامِ بندگی کا
سوراخ پڑ گئے ہیں اخلاص کے کفن میں
.
اے پاسبانِ گلشن تجھ کو خبر نہیں ہے
شعلے بھڑک رہے ہیں پھولوں کی انجمن میں
.
اے یار تیرے غم سے فرصت اگر ملی تو
تبدیلیاں کروں گا اس عالمِ کہن میں
.
دیکھا ہے میں نے دل کی بیتابیوں کا منظر
اک ٹوٹتی کلی میں ،اک ڈوبتی کرن میں
.
ساغرؔ صدیقی
جب بھی بھوک کی, شدت کا گلہ کرتا ھوں.
....
تم عقیدوں کے کھلونے مجھے لا دیتے ھو...
ایسے مِلو کے ملنے کی فرصت بھی کم پڑے
.....
وہ وقت بن کر آؤ کہ ٹالے نہ جا سکو۔۔!!!
💞
Good night 🌃 Pakistan 🇵🇰
کیا ستم کے اب تیری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
کیا پردے نے پردہ پوشی کے علاوہ
کوئی اور فرض بھی انجام دیا ہے
خود سے رشتے رہے کہاں ان کے
غم تو جانے تھے رائیگاں ان کے
.
مست ان کو گماں میں رہنے دے
خانہ برباد ہیں گماں ان کے
.
یار سکھ نیند ہو نصیب ان کو
دکھ یہ ہے دکھ ہیں بے اماں ان کے
.
کتنی سرسبز تھی زمیں ان کی
کتنے نیلے تھے آسماں ان کے
.
نوحہ خوانی ہے کیا ضرور انہیں
ان کے نغمے ہیں نوحہ خواں ان کے
در مطلب ہے کیا طلب انگیز
کچھ نہیں واں سو کچھ بھی جا مانگو
.
گوشہ گیر غبار ذات ہوں میں
مجھ میں ہو کر مرا پتا مانگو
.
منکران خدائے بخشندہ
اس سے تو اور اک خدا مانگو
.
اس شکم رقص گر کے سائل ہو
ناف پیالے کی تم عطا مانگو
.
لاکھ جنجال مانگنے میں ہیں
کچھ نہ مانگو فقط دعا مانگو
کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو
.
منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو
.
مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو
.
صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو
.
ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو
.
میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain