مل جاٸیں جو تیری قربت کے کچھ لمحے
باقی کی ساری زندگی میں خیرات کر دوں
طَلب مَوت کی کرنا گُناہِ کبِیرہ ہے
مَرنے کا شَوق ہے تو عِشق کِیوں نہیں کرتے
لذت غم بڑھا دیجئے
آپ پھر مسکرا دیجئے
میرا دامن بہت صاف ہے
کوئی تہمت ہی لگا دیجئے
یادوں کے پاؤں ہی نہیں ورنہ
تیری یادوں کے پاؤں پڑ جاتے
اپنے لہجے پہ غور کر کے بتا
لفظ کتنے ہیں، تیر کتنے ہیں
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
فیض احمد فیض
یہ جو ڈوبی ہیں میری آنکھیں اشکوں کے دریا میں
یہ مٹی کے انسانوں پر بھروسے کی سزا ہے
Good night 🌃 Pakistan 🇵🇰...
اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالبان میں کسی کو بھول گیا
میں رہا عمر بھر جدا خود سے
یاد میں خود کو عمر بھر آیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
جشن ہوتا توتھم گیا ہوتا
وہ ہے ماتم سو روز کرتا ہوں
چند سانسیں خریدنے کے لیے
زندگی روز بیچتا ہوں تجھے
وہ جو اچھا سمجھتے ہیں مجھ کو
پوچھیں ان سے جن کے ساتھ ہوں میں
اس پار کی تمنا میں
اس پار جی سکا نہ میں
نہیں ہوتے مگر ہوتے ہیں
کچھ تعلق عجیب ہوتے ہیں
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ye kasoor Mera hi....k .....😔😔
عجیب ہے، کہ محبت شناس ہو کر بھی
اداس لگتا نہیں ہوں، اداس ہو کر بھی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain