*جو جتنا اچھا جھوٹ بولتا ہے دنیا اس کی ہوتی ہے،لیکن پھر اس کی آخرت نہیں ہوتی...*💞💞
.
خطائیں عمر رفتہ کی___ سزائیں عمر حاضر کو
عجب انصاف ھے دیکھو ، کہاں کرنا کہاں بھرنا !
مجھے پیار ہو ہی رہا تها❤😍
اچانک اس کے پاوں پر نظر پر گئ😂✌
آدھی زندگی جی لیتا 😏
اگر میں آس کے ہاتھ کی بنی چائے پی لیتا ☕☕
*کسی کو جان لینا ... بھی بہت بڑا عذاب ہوتا ہے .......!!!*
💞 💞
جھوٹی انا کی__ پالی دنیا۔۔🍁
روکھی پھیکی__کالی دنیا۔۔🖤
کوئی ککڑ🐔فرائی کیتا۔۔۔۔۔۔۔۔😋😋😋
تیریا یاداں نے ساڈا
B.P ہائی کیتا
ڏکيو درد آهي، دوا کي ڇڏيون ٿا
پرين پرچ هاڻي، انا کي ڇڏيون ٿا
زلف کھولی ہے آج محترمہ نے😘😍😍
ھائے اب جوئیں در بدر ہونگی🤭😝😁
گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
سحر کی آس تو ہے ،زندگی کی آس نہیں
ایسا بھی کوئی شخص دل کا مکیں نہ ہو
جو ہر جگہ پہ ہوتے ہوۓ بھی کہیں نہ ہو
حسرت سے سوچتے ہیں تجھے دیکھ کر یہ ہم.
بندہ وفا پرست ہو، چاہے حسیں نہ ہو!
جو مر گئے ہیں تمھیں ان کی فکر ہے لیکن ..!!
جو مر رہے ہیں تمھیں ان کا کچھ ملال نہیں
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی
خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
جو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا
.
میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹی
میری طرح اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا
.
تو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے
تو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا
.
تھے کوچۂ جاناں سے پرے بھی کئی منظر
دل نے کبھی اس راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا
.
اب یاد نہیں مجھ کو فرازؔ اپنا بھی پیکر
جس روز سے بکھرا ہوں سمٹ کر نہیں دیکھا
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
.
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
.
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
.
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
.
فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
ﺍﮔﺮ ﻣـﯿﺮﮮ ﻣـﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟﺍﻧﺪﮬــﯿﺮﺍ ﮨﯽﺍﻧﺪﮬﯿــــﺮﺍ ﺗﮭﺎ.
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞﮐﯽ!
تم مجھے بہت یاد آتی ہو لیکن!
یہ بات اب میں نے تمہیں نہیں کہنی
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی.
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی
مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے
مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے
میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو
ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain