Damadam.pk
Adnan-Chandio's posts | Damadam

Adnan-Chandio's posts:

Adnan-Chandio
 

*جو جتنا اچھا جھوٹ بولتا ہے دنیا اس کی ہوتی ہے،لیکن پھر اس کی آخرت نہیں ہوتی...*💞💞

Adnan-Chandio
 

.
خطائیں عمر رفتہ کی___ سزائیں عمر حاضر کو
عجب انصاف ھے دیکھو ، کہاں کرنا کہاں بھرنا !

Adnan-Chandio
 

مجھے پیار ہو ہی رہا تها❤😍
اچانک اس کے پاوں پر نظر پر گئ😂✌

Adnan-Chandio
 

آدھی زندگی جی لیتا 😏
اگر میں آس کے ہاتھ کی بنی چائے پی لیتا ☕☕

Adnan-Chandio
 

*کسی کو جان لینا ... بھی بہت بڑا عذاب ہوتا ہے .......!!!*
💞 💞

Adnan-Chandio
 

جھوٹی انا کی__ پالی دنیا۔۔🍁
روکھی پھیکی__کالی دنیا۔۔🖤

Adnan-Chandio
 

کوئی ککڑ🐔فرائی کیتا۔۔۔۔۔۔۔۔😋😋😋
تیریا یاداں نے ساڈا
B.P ہائی کیتا

Adnan-Chandio
 

ڏکيو درد آهي، دوا کي ڇڏيون ٿا
پرين پرچ هاڻي، انا کي ڇڏيون ٿا ⁦

Adnan-Chandio
 

زلف کھولی ہے آج محترمہ نے😘😍😍
ھائے اب جوئیں در بدر ہونگی🤭😝😁

Adnan-Chandio
 

گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
سحر کی آس تو ہے ،زندگی کی آس نہیں

Adnan-Chandio
 

ایسا بھی کوئی شخص دل کا مکیں نہ ہو
جو ہر جگہ پہ ہوتے ہوۓ بھی کہیں نہ ہو
حسرت سے سوچتے ہیں تجھے دیکھ کر یہ ہم.
بندہ وفا پرست ہو، چاہے حسیں نہ ہو!

Adnan-Chandio
 

جو مر گئے ہیں تمھیں ان کی فکر ہے لیکن ..!!
جو مر رہے ہیں تمھیں ان کا کچھ ملال نہیں

Adnan-Chandio
 

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

Adnan-Chandio
 

قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی

Adnan-Chandio
 

خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
جو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا
.
میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹی
میری طرح اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا
.
تو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے
تو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا
.
تھے کوچۂ جاناں سے پرے بھی کئی منظر
دل نے کبھی اس راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا
.
اب یاد نہیں مجھ کو فرازؔ اپنا بھی پیکر
جس روز سے بکھرا ہوں سمٹ کر نہیں دیکھا

Adnan-Chandio
 

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
.
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
.
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
.
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
.
فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا

Adnan-Chandio
 

ﺍﮔﺮ ﻣـﯿﺮﮮ ﻣـﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟﺍﻧﺪﮬــﯿﺮﺍ ﮨﯽﺍﻧﺪﮬﯿــــﺮﺍ ﺗﮭﺎ.
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞﮐﯽ!

Adnan-Chandio
 

تم مجھے بہت یاد آتی ہو لیکن!
یہ بات اب میں نے تمہیں نہیں کہنی

Adnan-Chandio
 

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی.

Adnan-Chandio
 

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی
مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے
مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے
میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو
ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے