دیکھوں تو ہے نگاہ میں دنیا کے ہفت رنگ
سوچوں تو کوئی سامنے تیرے سوا نہیں
میرے ابرِ گریزاں رب تجھے شادابیاں بخشے
تجھے سرسبز دیکھوں تو بھلا دوں آبلے اپنے
" نہ تیرا ہجر گوارا نہ یه گوارا مجھ کو
کہ ؛ میں کسی اور کی نسبت سے پُکارا جاؤں ۔ "
رنگ و بو کے نشے سے مخمور ہیں آنکھیں۔۔۔
اوڑھ کے تیرے عشق کو خواب نکھرنے لگے۔۔
بات نہیں کی گئی، بات نہیں سنی گئی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا، وہ قدم قدم پہ بہک گئے ـ
پھیلا کر پاؤں سوئیں گے کنجِ مزار میں
ایک مُدت ہوئی کوئی تصویر نہیں بنائی اپنی
اک عرصہ ہوا خود کو اچھے نہیں لگے ہم
اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے
ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے۔💔
کبھی درد کے گل مہکتے تو ہوں گے
ملن کو وہ ہم سے ترستے تو ہوں گے
جہاں ساتھ چلتے تھے ان راستوں میں
قدم، بے ارادہ ۔۔۔۔۔ بھٹکتے تو ہوں گے
کسی مصلحت میں ادھورے رہے جو
لبوں پر وہ نغمے مچلتے تو ہوں گے
ہمیں یاد کر کے کچھ اشکوں کے موتی
سرِ نوکِ مژگاں چمکتے تو ہوں گے
کبھی شاخِ دل پر ۔۔۔۔۔۔ سرِ شام نسریںؔ
وفاؤں کے پنچھی چہکتے تو ہوں گے
وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا
انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا
ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو
نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا
نہ جانے کون سی آتش میں جل بجھے ہم تم
یہاں تو جو بھی ہوا ہے درون خانہ ہوا
کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں
کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ہوا
اسی ستارے نے بھٹکا دیا سر منزل
سفر پہ جو مری تحویل میں روانہ ہوا
سنا ہے تجھ کو تو ہم یاد بھی نہیں آتے
یہ امتحاں تو نہیں یہ تو آزمانا ہوا
ہمیں تو عشق مقدر ہے جیسے رزق سلیمؔ
سو چل پڑیں گے جہاں اپنا آب و دانہ ہوا
اے طلسماتی خدوخال کے مالک تجھ سے
آخری بار کوئی، پہلی جھلک مانگتا ہے.
اب مزید اس سے یہ رشتہ نہی رکھا جاتا
جس سے اک شخص کا پرڈہ نہی رکھا جاتا
ایک تو بس میں نہی تجھ سے محبت نہ کرو
اور پھر ہاتھ بھی ہلکا نہیں رکھا جاتا
پڑھنے جاتا ہوں تو تسمے نہی باندھے جاتے
گھر پلٹتا ہوں تو بستہ نہیں رکھا جاتا
تہذیب حافی❤
ایک بہانہ ھے میرے پاس ابھی جینے کا
چند تصویریں میرے موبائل میں پڑی ھیں تیری۔
دِل اور چارجر لوگ ساڑ کے واپس کرتے ہیں ـ
~قوٹ آف دی ڈے
پڑھنے جاتا ہوں تو تسمے نہیں باندھے جاتے
گھر پلٹتا ہوں تو بستہ نہیں رکھا جاتا
یہ تو بٹن ہی خراب لگرا تھا
جسٹ کنو دیٹ اٹ ورکس ـُ ـ ـ
Aesa pehli baar hoa hai
Pta nee kitny saalon mn
Pr chand minutes pehlay
Ghalati sy hi sahi.. But it happened. Don't know what to do... Whether to accept or not... So muchh confused.
شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا
احمد فراز 💔
Lo g lg gya stop.
Lg gyi break.
Ab finish.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain