سکھ اور دُکھ اپنی تقدیر سے ملتے ہیں
امیری اور غریبی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں
رونے والے عالیشان محلوں میں بھی روتے ہیں اور جن کی قسمت میں خوشیاں ہوں وہ جھونپڑی میں بھی ہنستے ہیں
ہم پوری زندگی اس انتظار میں نکال دیتے ہیں
کہ ایک دن ہم اپنی من پسند زندگی جیئیں گے
لیکن یہ بھول جاتے ہیں
کہ زندگی وہی ہے
جو آج ہے
کل تو بس خواب ہے
جس کی کوئی تعبیر نہیں
"پیٹ فقیر کا بھی کبھی خالی نہیں رہتا اور سبھی خواہشیں بادشاہ کی بھی پوری نہیں ہوتی۔"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain