خط لکھوں تو کیا لکھوں آرزو مدہوش
🥀ہے
خط پہ آنسو گر رہے ہیں اور قلم خاموش
🌚ہے
?حسرتیں کیسی؟خواہشیں کیسا
?اجڑے کیسے؟بکھرے کیسے
?عروج کیسا؟زوال کیسا
?حال کیسا؟ملال کیسا
?ذوق کیسا؟شوق کیسا
?سوال کیسا؟جواب کیسا
یہ وقت کی ساری عداوتیں ہیں ان میں
🥀?حساب و کتاب کیسا
وہ رو رو پُچھن حال میرا
میں کِھڑ کِھڑ ہسّاں____کی دسّاں
🔥
یہ آرضی لوگ خوشیاں چھین لیتے
🥀ہیں
ایک غزل تیرے لئے ضرور لکھوں گی
بے حساب اس میں تیرا قصور لکھوں گی
تو گفتار کا ماہر کردار کا ماہر
پھر حُسن کو تیرے تیرا غرور لکھوں گی
🥀🔥
یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی
ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی
🥀نہیں
انسانوں کا میلہ ہے، لیکن ہر انسان
🥀اکیلا ہے
کسی کو دیا گیا ایک آنسو
عمر بھر کی عبادت پر پانی پھیر دیتا ہے
💯