نقش دل پر کیسی کیسی صورتوں کا رہ گیا
کتنی لہریں ہم سفر تھیں پھر بھی پیاسا رہ گیا
کیسی کیسی خواہشیں مجھ سے جدا ہوتی گئیں
کس قدر آباد تھا اور کتنا تنہا رہ گیا
ڈھونڈنے نکلا تھا آوازوں کی بستی میں اسے
سوچ کر ویراں گزر گاہوں پہ بیٹھا رہ گیا
اس سے ملنا یاد ہے مل کر بچھڑنا یاد ہے
کیا بتا سکتا ہوں کیا جاتا رہا کیا رہ گیا
میں یہ کہتا ہوں کہ ہر رخ سے بسر کی زندگی
زندگی کہتی ہے ہر پہلو ادھورا رہ گیا
عہد رفتہ کی کھدائی کس قدر مہنگی پڑی
جس جگہ اونچی عمارت تھی گڑھا سا رہ گیا
صرف اتنی ہے مظفرؔ اپنی روداد حیات
میں زمانے کو زمانہ مجھ کو تکتا رہ گیا
جھوٹ کہتے ہیں کہ آواز لگا سکتا ہے،
ڈوبنے والا تو فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے،
اور پھر چھوڑ گیا وہ جو کہا کرتا تھا،
کون بد بخت تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے،
میری تصویر بنانے کی جو دُھن ہے تم کو
کیا اداسی کے خد و خال بنا پاؤ گے ؟
تم پرندوں کے درختوں کے مصور ہو میاں
کس طرح سبزۂ پامال بنا پاؤ گے؟
سر کی دلدل میں دھنسی آنکھ بنا سکتے ہو
آنکھ میں پھیلتے پاتال بنا پاؤ گے؟
جو مقدر نے میری سمت اچھالا تھا کبھی
میرے ماتھے پہ وہی جال بنا پاؤ گے؟
مل گئی خاک میں آخر کو سیاہی جن کی
میرے ہمدم وہ میرے بال بنا پاؤ گے؟
یہ جو چہرے پہ خراشوں کی طرح ثبت ہوئے
یہ اذیت کے مہ و سال بنا پاؤ گے؟
زندگی نے جو میرا حال بنا چھوڑا ہے
میری تصویر کا وہ حال بنا پاؤ گے؟
ابھی پہلی محبت کے بہت سے قرض باقی ہیں.
ابھی پہلی مسافت کی تھکن سے چور ہیں پاؤں.
ابھی پہلی رفاقت کا ہر اک گھاؤ سلامت ہے..
ابھی مقتول خوابوں کو بھی دفنایا نہیں ہم نے.
ابھی انکھیں ہیں عدت میں، ابھی یہ سوگ کے دن ہیں.
ابھی اس غم کی کیفیت سے باہر کس طرح آئیں.
ابھی اس غم کو بھرنے دو، ابھی کچھ دن گزرنے دو.
یہ غم کے نیلگوں دریا اتر جائیں تو سوچیں گے.
ابھی یہ زخم تازہ ہیں یہ بھر جائیں تو سوچیں گے.
دوبارہ کب اجڑنا ہے، دوبارہ کب اجڑنا ہے.
#انتظامیہ
انا کی قید سے نکلے مقابلہ تو کرے
وہ میرا ساتھ نبھانے کا حوصلہ تو کرے
کبھی نہ ٹوٹنے والا حصار بن جاؤں
وہ میری ذات میں رہنے کا فیصلہ تو کرے
اسے میں سونپ دوں اپنی یہ منتظر آنکھیں
وہ میری کھوج میں جانے کا تذکرہ تو کرے
زمانے بھر کو میں اپنی گرفت میں لے لوں
مرا نصیب مجھے تجھ سے ماورا تو کرے
میں اس کو کھو کے ادھورا وہ مجھ کو پا کے اداس
ہمارے کرب کا کوئی موازنہ تو کرے
میرے حصے میں یار خوشی نہیں کوئی
غم مجھے اور غموں کو راس ہوں میں
مجھ سے کون پوچھے گا میرے بارے میں
آخر کس کو بتاؤں کہ کیوں اداس ہوں میں
ہر ایک محبت میں تو یکتا نہیں ہوتا
جیسے کہ ہر اِک شخص کو سکتہ نہیں ہوتا ہے
اس واسطے بھی پھرتے ہیں قاتل سکون سے
قاضی خرید لو تو پھر تختہ نہیں ہوتا
اس ڈر سےمیں قمیص کبھی جھاڑتا نہیں
کب جانے آستین سے احباب گر پڑیں
جاگیں تو احتیاط سے پلکوں کو کھولئے
ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے کچھ خواب گر پڑیں
اک باردیکھ لیں جو وہ تیرے بدن کا نور
قدموں میں تیرے انجم ومہتاب گر پڑیں
اتنا بھی مت بڑھایئے رخت سفر کہ کل
جب پوٹلی اٹھائیں تو اسباب گر پڑیں
رہنے بھی دیں نہ منھ مرا کھلوائیے جناب
ایسا نہ ہو کہ آپ کے القاب گر پڑیں
لفظ سطروں میں نہ آئے گا تو مر جائے گا
شوق اظہار نہ پائے گا تو مر جائے گا
وہ جو سب بھول کے خوش ہے اسے پاگل نہ کہو
وہ اگر ہوش میں آئے گا تو مر جائے گا۔
🖇️🔏🍁✍️
*یاد آۓ گی اک دن تمہیں یہ عنایت بھی میری۔۔۔!🍁*
*ہمارا قیمتی ہو کر بھی تیرے لیے مفت ہو جانا۔۔۔!*🍁
_
*_"" نا جانے کس کو پسند آگئ ھے میری آنکھوں کی نمی""_*
*_""میں ہنسنا بھی چاہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں..🙂💔""_*
💔🪦
دعائیں، منتیں، روشن دِیا قبول کرے
وہ آئے اور مِرے اشکِ وفا قبول کرے
وہ آئینے سے اگر مطمئن نہیں ہے تو پھر
ہماری آنکھیں بہ طور آئینہ قبول کرے
میں زندگی میں فقط تجھ کو دیکھ پایا ہوں
خدائے خواب مِرا دیکھنا قبول کرے
*روز لکھتا ہوں مگر پهر ادھورا چھوڑ دیتا ہوں*
*کہانی تودلچسپ ہےمگر ہربار قلم توڑدیتا ہوں*
💔
دل رہے فریاد کناں ، تیرا ذکر ورد زباں رہے
تیری ہی یادوں سے دل کی ، دهڑکن رواں رہے
ہونٹوں پے جاری رہے ، تیرے نام کی تسبیح
رویں ،رویں پے قابض تو ، تیرا ہجر پهر کہاں رہے
اُلفت، مُحبت ، وَفا، حَیا، عشق، غَم، اَفسانے...✨🖤
وہ آيا ہی تھا زندگی میں شاید یہ سکھانے!🥀🍂🙂✨
کتنا چپ چاپ ھے ماحول میری بستی کا!!!
ماتمی خانہ بدوشوں__کے بسیروں جیسا!!!
کیا کہیں اب کے عجب عشق ھُوا ھے مُحسن!!!
سرد شاموں کی طرح___گرم سویروں جیسا!!!
درد سے، یادوں سے، اشکوں سے شناسائی ہے
کتنا آباد مرا گوشۂ تنہائی ہے
خار تو خار ہیں، کچھ گل بھی خفا ہیں مجھ سے
میں نے کانٹوں سے الجھنے کی سزا پائی ہے
میر تقی میر
جگہ کچھ تصویر کے حصے میں رکھنا
ھمیں اپنی تقدیر کے حصے میں رکھنا
کچھ خواب سچ ھو جاے ممکن ھے
کچھ خواب تعبیر کے حصے میں رکھنا
نامکمل میرے عشق کی عمارت میں
دل کو زیر تعمیر کے حصے میں رکھنا
نام میرا بےوفا تم بےدھڑک لکھنا
مگر اپنی ھر تحریر کےحصے میں رکھنا
دیوانہ پاگل ھے دل تیرا رفیق اسے
اسیر الفت زنجیر کے حصے میں رکھنا
ہر بار مجھے زخم جدائی نہ دیا کر،
اگر تو میرا نہیں تو مجھ کو دکھائی نہ دیا کر،
سچ جھوٹ تیری آنکھ سے ہو جاتا ہے ظاہر،
قسمیں نہ اٹھا اتنی صفائی نہ دیا کر،
معلوم ہے تو رہتا ہے مجھ سے گریزاں،
پاس آ کے محبت کی دہائی نہ دیا کر،
اڑ جائیں تو لوٹ کے آتے نہیں واپس،
ہر بار پرندوں کو رہائی نہ دیا کر،
آج دل اُداس ہے🥺 بات بات پے رونا آ رہا ہے🥺
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain