دل سو چتا ہے تو سو چتا ہی رہ جا تا ہے
یہ جو اپنے ہیں کیا سچ میں اپنے ہیں؟
ذکر بے وفا ؤں کا تھا رات سرِ محفل
جھکا میرا بھی سر جب نام اس کا آ یا۔
اُس بے وفا کی یاد دلاتا تھا مجھے
کل آ ئینے پہ ہا تھ اُ ٹھانہ پڑا مجھے۔
مزاج اچھا ہے آج ہمارا
کو ئی شکوہ ہو تو چلے آ ؤ۔
DiL LaGi
اتنی پلا سا قی ؔ کہ ڈوب جائے میخانہ
بہتی پھرے شراب میں کشتی فقیر کی۔
وہ جنہیں ہم نے سو نپی ہیں دل کی دھڑ کنیں
وہ اپنا اِک پل دینے پے ہزار بار سو چتے ہیں۔
MeRa YaR GuLaB hE
Wo GulnayaB hE
سمیت کر لے جا ؤ اپنے جھو ٹے وعدوں کے ادھو رے قصے
اگلی محبت میں تمہیں پھر ان کی ضرورت پڑی گی۔