Ho Ali Ke Naam Se Toofan Bhi Khauf Khate Hain Jinhe Yakin Nahi Wo Doob Jate Hain Farishte Qabr Me Kuch Aur Poochhte Hi Nahi Zuban Pe Naam-E-Ali Sun Ke Laut Jate Hain
Meray Bachpan Ke Din Bhi Kya Khoob The, Be-Namazi Bhi Tha Aur Be-Gunah Bhi…
Jab mein kehta hoon Ya’Allah mera haal dekh, Hukkam hota hai ke apna naama amaal dekh.
Boy: Karne Do Na”
Girl: “Nahi Ab Bus Karo”
Boy: “Please Thora Sa Aur Karne Do Na”
Girl: “Kab Se To Kar Rahe Ho, Ab Bass Karo”
Boy: “Bus Thora Sa Aur Karunga, Tum Sahi Se Khol Kar Rakho”
Girl: “Jaldi Karo Koi Dekh Lega”
Boy: “Kuch Nahi Hota Bus 5 Minutes Aur”
Girl: “Bus Bohat Ho Gaya Abb Nahi Karne Doongi”
Boy: “Please Yaar, Thora Aur Karne Do
Warna Mein Exam Me Fail Ho Jaoonga“

Za Sharabi Na Yam
Na Me Sharab Skali Di,
Starge Me Che Sre Di
Daa Me Ta Pasay Jarali Di.
ka me wajni be qassora da bagawer pa ghasho
za hu hes kawaly na shm sta da stargu badshahi da
اس کے دل سے غفلت کا پر دہ دور ہو گیا اس نے توبہ کرلی اور قافلے کا لوٹا ہوا مال واپس کر دیا۔ اس طرح آپ کی سچائی کی بدولت ڈاکوؤں کی اصلاح ہو گئی اور وہ نیکی اور پر ہیز گاری کی زندگی گزارنے لگے۔
آپ نے جواب دیا:”میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ بیٹا!ہمیشہ سچ بولنا میں نے اپنی ماں کی نصیحت پر عمل کیا ہے ۔“آپ کا یہ جواب سن کر سردار اس قدر متاثر ہوا کہ بے ساختہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ سوچنے لگا کہ ایک طرف یہ لڑکا ہے جسے اپنی ماں کی نصیحت کا اس قدر خیال ہے اور دوسری طرف میں ہوں کہ اپنے مالک حقیقی کے احکام سے غافل ہو کر بے گناہ لوگوں کو لوٹتا ہوں ۔
“ڈاکو نے آپ کی اس بات کو مذاق سمجھا اور ہنستا ہوا آگے گزر گیا ۔اتنے میں ایک اور ڈاکو آپ کے پاس آیا اور وہی سوال کیا ۔آپ نے پھر وہی جواب دیا۔ وہ ڈاکو یہ جو اب سن کر حیران ہوا اور آپ کو پکڑ کر اپنے سر دار کے پاس لے گیا ۔ڈاکو کے سر دار نے تعجب سے آپ کو دیکھا اورپوچھا:” لڑکے سچ مچ بتا تیرے پاس کیا ہے؟“ آپ نے وہی بات دہرائی آپ کی یہ بات سن کر سردار کی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔
آپ نے اپنی قمیض کی تہ کو کھولا تو پوری چالیس اشرفیاں زمین پر گر پڑیں۔اشرفیاں دیکھ کر سردار کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔
اس نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا :”لڑکے !تونے سچ بول کر اپنا راز کیوں فاش کر دیا حالانکہ تو آسانی سے اپنی اشرفیاں بچا سکتا تھا ۔
آپ کی والدہ نے یہ اشرفیاں آپ کی قمیض کی تہ میں سی دیں تاکہ محفوظ رہیں اور چلتے وقت آپ کو خاص طور پر یہ نصیحت کی کہ بیٹا:”ہمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ کے قریب نہ جانا۔
“آپ نے ماں کی اس نصیحت کو غور سے سنا اور سفر پہ روانہ ہو گئے ۔قافلے کے لوگ ڈرتے ڈرتے سفر پہ روانہ ہوئے انہیں اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ کہیں راستے میں ڈاکو قافلے پر حملہ نہ کردیں کیونکہ ان دنوں راستے غیر محفوظ تھے اور ڈاکو اکثر قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے ۔
آخر وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا قافلے نے ابھی سفر کی دو منزلیں ہی طے کی تھیں کہ ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے رات کی تاریکی میں اس پر حملہ کر دیا۔چ
(Agla hisa mare agli post ma)
چنانچہ آپ کی والدہ نے آپ کو بھی بغداد جانے والے ایک قافلے کے ہمراہ روانہ کردیا۔ سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے آپ کی والدہ نے آپ کو کچھ خوراک اور چالیس اشرفیاں گزر اوقات کے لئے دیں۔
(Agla hisa mare agli post ma)
شیخ عبدالقادر جیلانی جنہیں غوث اعظم بھی کہتے ہیں بہت بڑے بزرگ اور ولی اللہ ہو گزرے ہیں۔ آپ کی ساری زندگی تبلیغ واشاعت اسلام میں گزری۔ بے شمار لوگوں نے آپ سے روحانی فیض حاصل کیا۔
آج بھی دنیا آپ کی تعلیمات سے فیض یاب ہو رہی ہے۔آپ کو بچپن سے ہی علم حاصل کرنے کا بے پناہ شوق تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم تو اپنے قصبے جیلان میں ہی حاصل کی لیکن دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بغداد جانا پڑتا تھا۔ اس زمانے میں گاڑیاں اور موٹر کاریں نہ تھیں اس لئے لوگ قافلوں کی صورت میں پیدل سفر کرتے تھے۔
آپ کی والدہ نے یہ اشرفیاں آپ کی قمیض کی تہ میں سی دیں تاکہ محفوظ رہیں اور چلتے وقت آپ کو خاص طور پر یہ نصیحت کی کہ بیٹا:”ہمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ کے قریب نہ جانا۔“
Aj ma apko (such ma barkt ha uska bary ma btawonga).
Agla hisaa mare agli post ma daiky
Exam hona ha ya nhi moja tho kuch smj nhi ayi
Wazira taleem shafkat mehmood ka ala sata ka ijlaas...abi 4 bji prees kanpfress hogi...sbsa guzarish ha tv koll ka daiklo pir...university walo ka bi btaya jayaga
Sanga chll da roja maty cha cha oko

اچھے لوگ ہمیشہ"الله"
کےتحائف استعمال کرتےہیں
ہونٹوں پہ"سچ
چہرےپہ"مسکراہٹ
الفاظ میں"دعا"اور
آنکهوں میں"ہمدردی
"رب ذوالجلال"
آپکوسدا اپنی چاهت نصیب کرے,
کشاده رزق دےاورآپکوذہنی وقلبی سکون عطافرماۓ-
آمین.اسلام عیلکم..
مدد کرنے کو امیر ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ کسی کی حاجت اگر تھوڑی سی کوشش سے پوری کر دی جائے تو یہی امیری ہے اور یہی انسانیت ہے۔
(The end)
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain