اس نے جواب دیا ” تم کیسے میری مدد کا حساب چکا سکتے ہو ؟ میں نے تمہاری مدد تب کی تھی جب میں ایک غریب اخبار فروش تھا اور تم میری مدد کرنے تب آئے ہو جب تم دنیا کے امیر ترین شخص ہو” ۔۔۔ اس کا یہ جواب سن کر مجھے لگا کہ یہ دنیا کا امیر ترین انسان ہے کہ اس نے میری مدد اپنی غربت میں کی اور مدد کرنے کو امیر ہونے کا انتظار نہیں کیا۔ میری نظر میں وہ اخبار فروش دنیا کا امیر ترین انسان ہے۔
(Agli post bi daika)
19 سال بعد جب میں مشہور بھی ہو گیا اور امیر بھی ہو گیا تو ایک دن مجھے اس اخبار فروش کی یاد آئی۔ میں اسے ڈھونڈنے واپس اسی ائیرپورٹ گیا اور کئی دنوں کی تلاش و بسیار کے بعد بلآخر میں نے اسے ڈھونڈ لیا۔ جب وہ ملا تو میں نے اسے کہا کہ کیا تم نے مجھے پہچانا ؟ وہ بولا “ہاں تم بل گیٹس ہو” ۔ میں نے کہا تم کو یاد ہے ایک بار میرے پاس چینج نہیں تھا تو تم نے مجھے اخبار دیا تھا ؟۔ وہ بولا “ہاں مجھے یاد ہے، ایسا دو بار ہوا تھا” ۔۔ میں نے اسے کہا کہ اچھا بتاو تم کو کیا چاہیئے۔ تمہاری کیا خواہش ہے ؟ میں تمہاری مدد کا حساب چکانا چاہتا ہوں۔۔۔
کچھ عرصے بعد اتفاق سے میرا دوبارہ اسی ائیرپورٹ جانا ہوا۔ اس دن بھی میرے پاس چینج نہیں تھا۔ وہی اخبار فروش جب اخبار دینے لگا تو میں نے اسے کہا کہ آج تو میں ہرگز اخبار نہیں لوں گا پہلے بھی تم کو پیسے نہ دے سکا اور آج بھی میرے پاس چینج نہیں ہے۔ اخبار فروش نے مجھے اخبار تھماتے ہوئے کہا کہ مجھے نقصان نہیں ہو رہا یہ اخبار میں اپنے منافع سے دے رہا ہوں ۔۔۔
(Agla hissa mare agli post ma daika)
ایک بار جب میں مشہور تھا نہ امیر تھا ایک ائیرپورٹ پر اترا۔ وہاں ایک اخبار فروش اخبار بیچ رہا تھا۔ میں نے بٹوہ دیکھا تو اس میں چینج نہیں تھا۔ میں نے اسے اخبار لوٹاتے ہوئے کہا کہ یہ میں نہیں لے سکتا میرے پاس چینج نہیں۔ اس اخبار فروش نے مجھے اخبار دیا اور بولا کہ کوئی بات نہیں تم یہ رکھ لو۔
دنیا کا امیر ترین انسان
مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس سے ایک انٹرویو میں سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی امیر ہے ؟ ۔۔۔ بل گیٹس نے جواب دیا “ہاں”
(Agla hissa mare agli post ma daika)
Dosto aj ma apko dunya ka Ameer tareen insaan ka bary ma btawonga ka wo kya kehta ha....😊😊
1 Saray da Jund na der Tang Shawe wo, Nu dere gussay kia ye wail:
“Da Jund Na Khu Ba marg kha wi”
.
Hum pa Haga Time da Marg Farishta Rala awo way Ye: “Tyaar Sha ! Za Sta Jund agesto La ralam”
.
Saray: Oho os banda Gup Hum She Lagolay
Mulla: Touba Obasai… Nan Saba Pa CABLE dairay Kharabay Channelay Raazi
.
1 Saray warta yo dam wai: Na Jee Zamung Pa TV kho channelay Dere Safa Raazi.. Taso Taar ki bas a masla wi
Mulla Pa KHUTBAA ki wiel: Che Prado Khazo Ma Gorai.. Zaka Che De sara Nazar Kameegi
1 Buda Saray Pakay Awaz Oko: Dalla Chi Pa Mung Di Chashmay Wacholay Nu os di Mazala Oka
Da Khaze Aw Khawand Kha Zabardasta Jaghara Oshwa ..
Jaghare Na Pas Khaza ALLAH Ta Pa Faryad Shwa:
“Ya ALLAH Ka Da Du Ghalti V Nu ALLAH Ta Ye Wakhle”
Aw
“Ka Zama Ghalti V Nu Ya ALLAH Ma Kunda Ke” ..

Mare ap sbsa guzarish ka do nfll pll kr Alla sa dowaye manga ka paper cancel hojaye......11 tareek ko pir ijlass ha wazir taleem ka 😔😔
اور یاد رکھو،زندگی میں کبھی موقع ملے تو دوسروں کی خدمت کرنا۔اسد اپنی ماں کو ہر وقت یاد کرتا رہتا اور خود کو کوستا رہتا کہ میری ماں کتنی رحم دل عور ت تھی کہ اس نے مجھے معاف کر دیا۔کوئی بھی والدین اپنی اولاد کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتا۔دوستو !یاد رکھو کے والدین کی خدمات سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے۔اور اپنی آنکھوں کو کھول لو اس سے پہلے کہ تمہارے ماں باپ کی آنکھیں بند ہو جائیں ۔والدین کی خدمت ایک عبادت ہے۔
(The end).
اسی لمحے وہ دیکھتا ہے کہ کمرے میں باہر کی طرف بہت ہی تیز روشنی دکھائی دے رہی ہے۔اور پھر وہ روشنی مختلف اطراف بٹ جاتی ہے۔اسد دیکھتاہے کہ صحن میں ایک بہت خوبصورت لڑکی اپنے ہاتھ میں سونے کا برتن لئے کھڑی ہے ۔اسد نے کہا تم کون ہو اور یہاں پر کیا کررہی ہو۔
لڑکی نے کہا میں سنہری پری ہوں اور جو بھی اس دنیا میں اچھے کام کرتاہے میں اللہ کے حکم سے اس کو انعام دیتی ہوں۔اور برے اعمال کرنے والے کو سزا۔پری نے کہا کہ اسد تم نے ماں کی خدمت کرنے میں غفلت کی ہے۔کیا تمہیں اپنی ماں کی تمام قربانیاں یاد نہیں ہیں اور اب تم ان کی کبھی خدمت نہ کر سکو گے۔
(Agla hissa mare agli post ma daika)
اس پر اسد رضا مند ہو گیا۔پھر وہ اپنی ماں اور بیوی کو فارم ہاؤس لے گیا وہاں پہنچ کر رخسانہ بہت تھک گئی۔اُس نے اپنے بیٹے کو پاؤں دبانے کے لئے بولا تو اسد نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ اماں میرے پاس وقت نہیں ہے۔
رات کا ایک پہر تھا اور رخسانہ کی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔
اس نے اپنے بیٹے کو آوازیں دیں مگر اس کے بیٹے نے نیند میں سنی ان سنی کردیں۔رخسانہ مر گئی ۔اور اسد کو خبر تک نہ ہوئی۔اتنے میں اسد کی بیوی آوازیں دیتی ہے کہ میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے۔اسد فوراً بھاگ کر گیا اور اس کے سر کو دبانے لگا۔
اور اس عورت نے اپنے بیٹے کی شادی بھی کر دی۔شادی کے بعد اسد پہلے جیسا نہ رہا۔
اسد نے اپنی ماں سے برا سلوک کرنا شروع کر دیا۔
اب رخسانہ کافی بوڑھی ہو چکی تھی اور اسد نے اس کا صحیح سے خیال نہ رکھا۔وہ نہ ہی اسے وقت دیتا اور نہ ہی اس کی صحت کی پرواہ کرتا۔ایسا لگتا تھا کہ اسد اپنی ماں کی تمام قربانیوں کو بھلا چکا تھا۔
رخسانہ اب بڑھاپے کی وجہ سے بیمار رہنے لگی۔اور گھر میں اس کادم گھٹنے لگا۔ایک دن اُس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ مجھے کہیں باہر لے جاؤ تو اسد نے انکار کر دیا۔رخسانہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا یہ میری آخری خواہش ہی سمجھ کر مان لو۔
(Agla hisa mare agli post ma)
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ راجیت پور گاؤں میں ایک عورت رہتی تھی۔جس کا نام رخسانہ تھا۔اس عورت کا ایک بیٹا تھا۔جس کا نام اسد تھا۔اور وہ بہت ہی خوشی کی زندگی گزار رہے تھے۔کہ اچانک ایک دن رخسانہ کا خاوند ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔
اس وقت اسد 6سال کا تھا۔رخسانہ کا خاوند ان دونوں ماں بیٹے کے لئے روزی کمانے کا ذریعہ تھا۔
لیکن اب رخسانہ اور اس کا بیٹا دونوں مفلسی کی زندگی گزارنے لگے۔رخسانہ اپنے بیٹے کو اچھا،کامیاب شخص بنانا چاہتی تھی۔اس لئے اس نے خود محنت مزدوری کرنا شروع کر دی۔
اُس نے اسد کا داخلہ ایک بہت ہی اچھے سکول میں کروایا۔پھر وقت گزرتا گیا اور بیس سال کے بعد اُس کا بیٹا اسد ایک کامیاب انجینئر بن گیا۔اب ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔
(Nafar maan olaad ka bary ma ha)
(Agla hisa mare agli post ma daiky)
9 or 1st year ka exam liya jayaga 😂😂 tv koll ka Ary news daiklo
مگر تائی پھر بھی شکائت کرتی رہتی تھی کہ اس کے شوہر کو اس سے “محبت” نہیں ہے!!!لڑکے کھل کر محبت کرتے ہیں۔۔۔ ۔ جبکہ لڑکیاں محبت کے بعد کھلتی ہیں، لڑکا محبت کرے تو پورے خاندان کو پتا ہوتا ہے۔۔۔ ۔۔۔ لڑکی کو محبت ہو جائے تو اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔۔۔ !!!ہماری ایک کلاس فیلو “شبانہ” ہوا کرتی تھی۔ لڑکوں کی بہت نمائندہ قسم کی خاتون!!! ہر وقت مرد اور عورت کی برابری کی بحث میں مشغول رہتی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جب لڑکیاں ہر کام کر سکتی ہیں تو انہیں “صنفِ نازک” کیوں کہا جاتا ہے۔ میری شبانہ سے خاصی لگتی چُبھتی تھی۔ “ایک دن جب مس شبانہ حسبِ معمول کلاس ڈسکشن کے دوران لڑکوں لڑکیوں کی “برابری” پر لیکچر دے رہی تھیں تو مجھ سے نہ رہا گیا میں نے سوال داغا:مس شبانہ ! کیا آپ کو “گولی پِل” کھیلنا آتا ہے? ک
( خواتین سے معزرت کے ساتھ۔ )
ان کی پیدائش پر نہ خوشی منائی جاتی ہے۔۔۔ ۔۔ نہ ان کے مرنے پر غم کیا جاتا ہے۔ لڑکیاں بے چاری ساری زندگی اپنے بھائیوں، شوہر اور بچوں کے ہاتھوں ایکسپلائٹ ہوتی رہتی ہیں۔ بھائی بہنوں سے قرض لے کر بھول جاتے ہیں، میں نے خود اپنی اکلوتی بہن سے تقریبا 64 بار “قرضِ ہسنہ” لیا۔ “ہسنہ” اس لئے کہ جب بھی وہ بیچاری قرض کی واپسی کا تقاضا کرتی میں “ہنس” کے دکھا دیتا۔لڑکیاں بہت
بھولی ہوتی ہیں۔۔۔ ۔ اسی “بھولپن“ میں کئی بھولے بھالے لڑکوں کی نیندیں حرام کر دیتی ہیں اور بھول جاتی ہیں۔ سچے پیار کی سدا متلاشی ہوتی ہیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک 40 سالہ لڑکی ہوا کرتی تھی جسے ہم تائی صغراں کہا کرتے تھے۔ تائی صغراں کے 13 بچے تھے،
(Agla hisa mare agli post ma daika)
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain