حاصل کلام
اللہ پر بے یقینی اور نکتہ چینی کرنے والا خود ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
یہ سن کر درویش نے غصہ میں آ کر ایک ڈھیلا اٹھا کر اسے مارا۔ اس شخص کا سر پھٹ گیا۔ وہ سیدھا قاضی کی عدالت میں پہنچا اور اپنی درد بھری کہانی سنائی اور داد رسی چاہی۔ قاضی نے درویش کو بلا کر باز پرس کی۔ درویش نے جواب دیا۔
“یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ اس بد عقیدہ شخص سے مجھے کچھ پوچھنے کی اجازت دی جائے۔”
قاضی نے اجازت دے دی۔ درویش نے اس شخص سے پوچھا۔
“تو کہتا ہے کہ تیرا سر زخمی ہونے سے تجھے تکلیف ہو رہی ہے لیکن مجھے تکلیف نظر نہیں آتی۔ خدا نے تجھے مٹی سے بنایا ہے تو پھر مٹی کے ڈھیلے سے تیرا سر کیوں پھٹ گیا۔ بتا، میں تیری نظر وں میں تجھے ڈھیلہ مارنے کا مجرم کیسے ٹھہرا جبکہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی پتا بھی نہیں ہلتا۔”
وہ شخص لاجواب ہو گیا۔ ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ادا نہ ہو سکا۔ قاضی نے درویش کو بری کر دیا اور اس شخص کو بری لعن طعن کی۔
ایمان بااللہ ۔ اللہ پاک نظر کیوں نہیں آتے؟
جو شخص بھی کائنات کے تمام اجزاء کے درمیان موجود گہرے ربط و ضبط کو دیکھے گا وہ پُکار اُٹھے گا کہ کوئی ذات ہے جس نے اس کائنات کا بنایا ہے۔ یہ کائنات نہ تو اتفاقیہ طور پر وجود میں آئی ہے اور نہ خود اپنی خالق ہے۔ ایک شخص نے کسی درویش سے پوچھا۔” اگر اللہ ہے تو نظر کیوں نہیں آتا؟ جنات کو اللہ نے آگ سے بنایا ہے۔ ان کو جہنم کی آگ میں جھونکنے سے کیا تکلیف ہوگی؟ میرے گناہوں کی سزا مجھے کیوں ملے گی جبکہ اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہلتا؟”
(Agla hisa mare agli post ma daila)
Sanga chll da 😊
Maashom Plaar ta: Daaji ma la motor waakhla che garzam pake
Plaar: Wali bachia da khpay de da sa dapara di??
Maashom: Yawa khpa da BREAK dapara da awo bala khpa da ACCELATOR dapara
Che sta pa zrh ke muhabbat neshta dy
Zama hum tata zarorat neshta dy
Ka ta jarge aw menatona ghware
P ma k yo dagha adat neshta dy
Mala d mene peghor m rakawy
Zama d mene s qemat neshta dy
Che me p sar pukhtu kawale n she
Nu dase yar ta me hajat neshta dy
Da bl p qadar
Qadrdan pohege
Be qadra khlku la izzat neshta dy
Hasi d hkolo geli sala okram
"ao sheha " yar me p qesmat neshta dy
(ha amera)
چی ارمانونه ۓ پورہ وی ارمان سه پیژنی؛
چا چی یو غم لیدلئ نه وی خفگان سه پیژنی؛
سوک چی د مینی پہ لار تللے په ٹول عمر نه وی،
هغه سڑے د مینی گٹه تاوان سه پیژنی..
Friends or kll sunawonga 😊
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور میں جس جس خطے میں اسلام کا جھنڈا لہرایا،وہاں سے آج بھی ”اللہ اکبر“کی صدائیں آتی ہیں ،وہاں آج بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔
ان کا بنایا ہوا نظام دنیا کے 245ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ۔
آج بھی جب کسی ڈاک خانے سے کوئی خط نکلتاہے، پولیس کا کوئی سپاہی وردی پہنتاہے ۔کوئی فوجی جوان 4ماہ بعد چھٹی پر جاتاہے یا پھر حکومت کسی بچے ،معذور ،بیوہ یا بے آسرا شخص کو وظیفہ دیتی ہے تو وہ غیر ارادی طور پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عظیم ترین حکمران تسلیم کرتی ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مشرکین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا بھر میں صرف دین اسلام ہی نافذ ہوتا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فقرہ آج بھی انسانی حقوق کے چارٹر کی حیثیت رکھتاہے:”مائیں بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں ،تم نے کب سے انھیں غلام بنالیا۔“
وہ اسلامی دنیا کے پہلے خلیفہ تھے ،جنھیں امیر المومنین کا خطاب دیا گیا اور دنیا کے واحد حکمران تھے جو فرمایا کرتے تھے:”میرے دور میں اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کی سزا مجھ کو بھگتنا ہو گی۔
(Agla haisa daika mare agli post ma)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے :”جو حکمران عدل کرتے ہیں،وہ راتوں کو بے خوف سوتے ہیں۔“
ان کا فرمان تھا کہ قوم کا سردار قوم کا سچا خادم ہوتاہے۔
ان کے دستر خوان پر کبھی دو سالن نہیں رکھے گئے۔
وہ زمین پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سوجاتے تھے۔
ان کے کُرتے پر14پیوند تھے اور ان پیوندوں میں ایک سرخ چمڑے کا پیوند بھی تھا۔
وہ موٹا اور کھردرا کپڑا پہنتے تھے۔انھیں نرم اور باریک کپڑے پسند نہیں تھے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی کو گورنر بناتے تھے تو اسے نصیحت فرماتے :”کبھی ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا،باریک لباس نہ پہننا ،چھنا ہوا آٹا نہ کھانا،دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی کے آنے پر دروازہ بند نہ کرنا۔
دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں ،بیواؤں اور بے آسراؤں کے وظیفے مقرر کیے۔فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا اور بے انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور دنیا میں پہلی بار با اختیار لوگوں کا احتساب بھی شروع کیا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے ۔ان کا دور خلافت اسلامی فتوحات کا سنہری دور تھا۔ان کے دور میں شام، مصر،عراق اور ایران کے کئی علاقے فتح ہوئے ۔
انھوں نے اپنے عہد خلافت میں اسلامی حکومت کی حدود کو وسیع کیا۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا نظام ترتیب دیا جو آج تک پوری دنیا میں رائج ہے ۔انھوں نے سن ہجری کا آغاز کیا ،جیل کا تصور دیا،موٴذنوں کی تنخوا ہیں مقرر کیں ،مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کیا ،پولیس کا محکمہ بنایا۔
(Bkya hisa agli post ma daika)
Zama Da Meene Transformer Ba Akher Oswazawy,
Janana Ta Che Da Raqeeb Sara Konde Achawy.
Ta Kho Zama Sara yo Shab-e-jume La Na Tly,
Awram Dasi Os Da Raqeeb Sara Chille Lagaway.
Yrr koyi btayaga exam honga ka nhi...i am confused😔
Domra Salamona
Laka Da Afganistan Ghroona ,
Da Arabistan Dashtoona ,
Da Hindustan Filmoona,
Da Paris Atroona,
Da PAKISTAN Daaloona,
Da Pukhto Mataloona.
Mata Hum Pata Da Sawab De Paki
Amir Seb Za Pa Maswak Sa Okama
Zama Pa Khula Ki Kho yo Ghakh Nishta De
Bas Pa De yo Kaar Ki Hasad Kawoma
Chi Cherta Hum Da Cha Wada La Larr Sham
Waim Afsoos Chi Da Zama Wada Wey
Laka mashom che pa zango ke khpe lasona wahi
Dase me zra sena ke ta pase topona wahi
.
.
Dase wayam che yo mayan ta nasehat kawe sok
Laka daryab ta che da shago dewalona wahi

submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain