کس کو پتا تھا ؟! پہلو میں رکھا ، دل ایسا پاجی بھی ہو گا ، ہم تو ہمیشہ سمجھتے تھے کوئی، ہم جیسا حاجی ہی ہو گا، ہائے زور کرے ، کتنا شور کرے ، بے وجہ باتوں پے ایویں غور کرے ، دل سا کوئی کمینا نہیں، کوئی تو روکے ، کوئی تو ٹوکے ، اس عمر میں اب کھاؤ گے دھوکے ، ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی ، دل تو بچہ ہے جی ، تھوڑا کچا ہے جی
حق سچ یا آل نبی ء اولاد مولا علی علیہ السلام، بلا کے غم اٹھاۓ جا رہے ہیں، جفا کے تیر کھائے جا رہے ہیں ، فدا کرنے کو دین مصطفیء پر، علی اکبرء سجاۓ جا رہے ہیں ، قدم دوش نبوت پر تھے جن کے ، وہ کانٹوں پر چلائے جا رہے ہیں، جہاں بے اذن آتے تھے نا جبرائیلء، وہ کاشانے جلائے جا رہے ہیں ، بٹھاتے تھے نبیء کاندھوں پہ جن کو ، وہ نیزوں سے گرائے جا رہے ہیں، ہوا تھا اسد،، قائم جن سے پردہ ، وہ بازاروں میں لائے جا رہے ہیں،
اُلجھا ہوا ایسا کہ کبھی حل نہیں ہو پایا سُلجھا ہوا ایسا کہ مِثالوں کی طرح تھا وہ مِل تو گیا تھا مگر اپنا ہی مقدر شطرنج کی اُلجھی ہوئی چالوں کی طرح تھا....