ہر اک خوشی یوں فرض نبھا کر چلی گئی
میرا پتہ غموں کو بتا کر چلی گئی
وقت گزرا نہیں ابھی ورنہ
ریت پر پاوں کے نشاں ہوتے
گرتی ہوئی دیوار کا ہمدرد ہوں لیکن
چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش نہیں کرتا
شعلہ ہوں بھڑکنے کی گزارش نہیں کرتا
سچ منہ سے نکل جاتا ہے کوشش نہیں کرتا
یہ تو نہیں کہ غم نہیں
ہاں میری آنکھ نم نہیں
میدان کی ہار جیت تو قسمت کی بات ہے
ٹوٹی ہے کس کے ہاتھ میں تلوار دیکھنا
دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا
پھر ہر قدم پہ اک نئی دیوار دیکھنا
فاصلے ایسے بھی ہوں گے، یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے، اور وہ میرا نہ تھا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain