I am alone and afraid
In a world
Which i never made
حُسن سب کو خدا نہیں دیتا
ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی
مرے نقوش مرا دائمی تعارف ہیں
میں کوئی رنگ کہیں عارضی نہیں بھرتا
(شاہد ذکی)
ہوش آتے ہی حسینوں کو، قیامت آئی
آنکھ میں فتنہ گری، دل میں شرارت آئی
کہہ گئے آن سے وہ آ کے مری مرقد پر
سونے والے! تجھے کس طرح سے راحت آئی؟
رکھ دیا ہاتھ مرے منہ پہ شبِ وصل اُس نے
بے حجابی کے لئے کام شکایت آئی
جب یہ کھاتا ہے، مرا خونِ جگر کھاتا ہے
دلِ بیمار کو کس چیز پہ رغبت آئی
عمر بھر اُس کو کلیجے سے لگائے رکّھا
تیرے بیمار کو جس درد میں لذّت آئی
زندگی میں دو باتیں ہمیشہ یاد رکھیں:
1-کبھی کسی کو پوری بات نہ بتائیں۔
2۔
🤭🤭🤭🤭🤭
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain