پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا کسی بھی آئنے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا تمہارا شہر تو بلکل ، نئے انداز والا ہے ہمارے شہر میں بھی اب ، کوئی ہم سا نہیں رہتا ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا