سنا ہے ذکر کرتی ہے میرا میرا نام لکھ دیا ہے بے وفاؤں میں ، سنا ہے میسیج پرانے دیکھ کے وہی ہنستا ہے میری ذات پر ، کوئ بات نہیں کوئ صدمہ نہیں افسوس ہے مجھے وہ سمجھ نہ سکا اور میں بتا نہ سکی میں نہیں تھی مجھے ہونا پڑا ، کہ خود کو محبت میں کھونا پڑا ، کہہ دو مجھے بے وفا کہنے والے کو ، کہ درد عشق میں مجھے کتنا رونا پڑا ۔