رات گہری تھی ڈر بھی سکتے تھے
ہم جو کہتے تھے کر بھی سکتے تھے
۔
۔
تم جو بچھڑے تو یہ بھی نہ سوچا
ہم تو پاگل تھے مر بھی سکتے تھے
بہت ہمت رکھنی پڑھتی ہے،،،،،،،،،ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ مسکرا کر جینے میں
جینے کے ان کے ساتھ بہانے چلے گئے
اٹھ کر وہ گئے یوں کہ زمانے چلے گئے
ہے تباہی کے ہمیں راس نہیں آزادی
۔
۔
۔
ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں
ہے تباہی کے ہمیں راس نہیں آزادی
۔
۔
۔
ہم وہ در ہیں جو دیواروں کی قد کرتے ہیں
یادیں کیوں نہیں بچھڑ جاتیں
۔
۔
لوگ تو پل میں بچھڑ جاتے ہیں
لوگ دھرتے ہیں کان چیخوں پر،،،،،،،ہم سی گونگی کتاب کون پڑھے
نام تک اب ہیں میرا بھول گئے،،،،،،،،ہمیں جاں کہہ کر بلانے والے