نم ہیں پلکیں تیری اے موج ہوا رات کے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ
پتھر تراش تراش کر شل ہو گئیں میری انگلیاں
جب وہ حسن پیکر بنا اس کے خریدار آگئے
آرزو کو روح میں غم بن کر رہنا آگیا سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آگیا
دل کا خون آنکھوں میں کھینچ آیا چلو اچھا ہوا میری آنکھوں کو میرا احوال کہنا آگیا
سہل ہو جائے گی مشکل ضبط سوزو ساز کی خون دل کو آنکھ سے جس روز بہنا آگیا
میں کسی سے اپنے دل کی بات کہہ سکتی نہ تھی اب سخن کی آڑ میں کیا کچھ نہ کہنا آگیا
جس درد سے ہم تم کو دیا کرتے تھے آواز
بلبل نے بھی یوں گل کو پکارا نہیں ہوگا
ہم اللّٰہ کو کبھی پہلا اور آخری آسرا نہیں مانتے
بلکہ ہمیشہ آخری آسرا سمجھتے ہیں اسی لیے بھٹکے رہتے ہیں
بچھڑنے والے تجھے علم ہی نہیں شاید
تیرے بغیر یہ گلشن ویران لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
مجھے وحشت ہے رونق سے
مجھے سنسان رہنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامیابی مسلسل سفر کا نام ہے اسے۔۔ اپنی منزل سمجھنے کی بھول نہ کرنا
حادثے درد ناک دیکھے ہیں۔۔۔۔
ہم نے جلتے گلاب دیکھے ہیں
آنکھیں بھر جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
جب کوئی تیرا نام لیتا ہے
دھوپ ادھر ڈھلتی تھی دل ڈوب ادھر جاتا تھا
آج تک یاد ہے وہ شام جدائی مجھ کو
میں تو انسان ہوں پتھر کے بھی ٹکڑے ہوں گے
یوں بلندی سے اگر اس کو بھی گرایا جائے
تم روٹھے روٹھے لگتے ہو کوئی ترکیب بتاؤ منانے کی
میں زندگی گروی رکھ دوں تم قیمت بتاؤ مسکرانے کی
اپنی حالت کا احساس نہیں ہے مجھکو
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں
میں مر چکی ہوں کب کی
اب کچھ رسمیں باقی ہیں
اور جو شخص اللّٰہ پر ایمان لاتا ہے
وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے
سبھی تو بدل گئے ہیں
اب اپنا بھی حق بنتا ہے
ہم مان چکے دل سے یہ بات اب
ہم دل سے جسے چاہیں وہ اپنا نہیں رہتا
درد کی رت میں کون کسی کے زخم پر مرحم رکھتا ہے
سردی کی راتوں میں ہم نے پورے چاند کو تنہا دیکھا ہے
جس طرح بخار میں منہ کا ذائقہ کڑوا ہو جاتا ہے اور کھانے میں لذت محسوس نہیں ہوتی اسی طرح گناہوں میں مبتلا رہنے سےعبادت کی لذت سے محروم رہتی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain