رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے خیالِ یار، کبھی ذکرِ یار کرتے رہے اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے نہیں شکایتِ ہجراں کہ اس وسیلے سے ہم اُن سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہِ انتظار نہ تھی ہم اُن میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے ہم اپنے راز پہ نازاں تھے ، شرمسار نہ تھے ہر ایک سے سخنِ راز دار کرتے رہے ضیائے بزمِ جہاں بار بار ماند ہوئی حدیثِ شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے انھیں کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے فیض احمد فیض
All alphabets Belonging to any language Combine all of them by coloring them and cutting out their features Whichever meaning is derived that is all about love
کردار کے اوصاف وھی رھتے ھیں جو آپ چاھتے ھیں مطلب اخلاص اخلاق عزت پارسائی تقوی اور بھی جو باقی نارمل انسان کے مثبت پہلو ھیں سبھی ۔۔۔ بسا اوقات ۔۔۔تمیز چھوڑ کر برائی کا عنصر وقوع پذیر ھو جاتا ھے ۔۔۔اس پہ کوئی غدقن ھے یا نھیں یہ مالک کا فیصلہ انسان غلطی کو تو ناپسند کر لے لیکن مثبت پہلوؤں کے حامل شخص کو شیطان صفت انسان سمجھنا جاھلت ھے ۔۔۔۔۔ زرا نھی پورا سوچیں عقل کے فیصلے مقدم ھوتے ھیں جب وہ کامل ھو
برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ھے بھٹکے ھوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ھے تا حّد نظر شعلے ھی شعلے ہیں چمن میں پھولوں کے نگھباں سے کچھ بھول ہوئی ھے جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے ھنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ھے حوروں کی طلب اور مئے و ساغر سے ھے نفرت زاھد ، ترے عرفاں سے کچھ بھول