ھے دوڑتا اشہب زمانہ کھا کھا کے طلب کا تازيانہ معانی: اشہب: گھوڑا ۔ طلب: خواھش ۔ تازیانہ: چابک ۔ مطلب: اس زمانے کو اگر گھوڑے سے تشبیہ دی جائے تو یوں سمجھو کہ گھوڑا خواھش کے چابک کھا کھا کر دوڑتا ھے ۔ مراد یہ ھے کہ ضرورت عملاً زمانے کو حرکت میں رکھتی ھے ۔ یھی اصول ازل سے چلا آ رھا ھے
معجزہ اھل ستم کو یہ د کھایا جائے رگِ خنجر کو بھی گردن سے کٹایا جائے ان کے حملوں کا قرینہ ھی جدا ھے اب کے کیسے بستی کو لٹیروں سے بچایا جائے میں نے مٹی کے خداوں سے بغاوت کی ھے میں ھوں سقراط مجھے زھر پلایا جائے اپنے بسمل کے پھڑکنے کا تماشہ دیکھے اسکو محفل میں کسی طور سے لایا جائے میں نے سوچی ھے رضا اپنے جنوں کی یہ سزا مجھ کو یادوں کے جھنم میں جلایا جائے