حقیقت و مجاز کی حقیقت : اگر مجاز کی فلسفیانہ تعبیر پیش کی جائے تو مجاز کہتے ہی ایسے اعتبارکو ہیں کہ جو اپنے نفس میں وجود کہ اعتبار سے غیر حقیقی ہو اسی لیے ظاہریت اور مادیت پر مجاز کا اطلاق کیا جاتا ہے کہ جو چیز نظر آرہی ہوتی ہے اس کی اصل حقیقت اوجھل ہوتی ہے لہذا فقط اس کے ظاہری وجود پر مجاز کا اطلاق کردیا جاتا ہے اور حقیقت کہتے ہیں کسی بھی شئے کے " جوہراصل " کو جو کہ عناصر میں اسکی ترکیب کہ اعتبار سے اسکی اصل روح اور ماہیت کو ظاہر کرتا ہو یعنی ایسا نفس الامر جو واقعی میں موجود ہو اور فرض نہ کیا گیا ہو۔
عقل (دماغ) ھے پر سمجھ نھی آنکھیں ھیں پر بصارت نھی کان ھیں پر سماعت نھی زبان ھے پر الفاظ نھی بولنے کی سکت نھی طاقت ھے پر مضبوطی نھی اور آخر پر دل ھے پر اس میں خدا نھی تو ایسے وجود یا شخص کا کیا انجام ھو سکتا ھے ۔۔