ہو کوئی "ورد" یا "آیت" سکون کی..!!
اے رب "ذوالجلال" میرا دل اداس ہے
بکھری پڑی تھیں ٹوٹ کے کلیاں زمین پر
ترتیب دے کے میں نے تیرا نام لکھ دیا
اس نے جان کہہ کے پکارا تو روح تڑپ اٹھی
پلٹ کے جو دیکھا تو وہ مخاطب کسی اور سے تھا...
تمہاری خُوشنما آنکھوں پہ وار دُوں خُود کو_
تمہاری دِلنشیں باتوں کو میری عُمر لگے_
ھائے کمبخت!
ھم اس کے دل تک نہیں پہنچ پائے
میں دیوانہ حُسن کا
اور وہ حسینہ کمال کی
ہم قیمتی سکہ تھے مگر گردشِ دوراں!
ہم رَد ہوئے اور کاسہِ سائل میں آگئے !
اب نہیں درکار یہ خیراتِ الفت بھی مجھے
وہ اگر صدقے بھی میرے سر کے اتارے، مسترد
کبھی کسی کا تجسس کبھی خود اپنی تلاش
عجیب دل ہے ہمیشہ سفر میں رہتا ہے
ب وجہ ہے یوں محبت میں جلآنآ دل کآ
کیآ خوب ہے یہ عشق نبھآنآ دل کآ
اس نے دریا میں ڈال دی ہوگی۔۔
میری محبت بھی ایک نیکی تھی۔۔
چاہتیں ، وقت ، وفا ، نیند ، بھروسہ ، غزلیں،
ایسا کیا تھا جو تیرے سر سے نہ وارا ہم نے۔۔
ہم ٹھہرے دنیا کے لوگ کوئی ہم سے
کتابوں والا عشق کیوں کرے گا
مشکل ہے پھرمِلیں کبھی یارانِ رفتگاں
تقدیر ہی سے اب یہ کرامات ہو تو ہو
مجھے بولنا نہیں آتا شاید یہی وجہ ہے-
کہ مجھے تصویر بنانا پسند ہے۔
زمین کا کوئی بھی فلسفہ؛
کھونے والے کو اس کی گمشدہ چیز کا عوض پیش نہیں کر سکتا!
کہیں ہے آس کا بادل کہیں یادوں کی بوندیں ہیں
مچلتی خواہشوں کا ہے ، یہ موسم بارشوں کا ہے
میری آنکھیں روز مختلف چہرے دیکھتی ہیں لیکن دل بضد ہے کہ کچھ بھی کافی نہیں ہے، تمہارے سوا۔
یوں اتاریں یہ عمر بھر کی تھکن
اس کے سینے میں چھپ کے مرجائیں
طلب یہ کہ میں سر رکھوں تیرے سینے پر
اور تمنا ہے کہ میرا نام پکارے دھڑکنیں تیری.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain