چراغ دل کا، مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
ہر ایک حال میں تیور بَلا کے رکھتے ہیں
ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
دُنیا میں دِل لگی کا مزہ ،،،،، دِل لگی سے ھے
آئے نہ جو کسی پہ ، وہ دوزخ میں جائے دِل
نَازک تھے اِس قَدر کہ گُل تَر سے مَرگئے
ہم تہمتوں کے ایک ہی پتھر سے مَرگئے,
معلوم کر رہا تھا زمانہ___ جوازِ مَرگ
اپنوں نے کہہ دیا کہ مقدر سے مَرگئے.
میرے لہو سے وضو، اور پھر وضو پہ وضو،
ڈرا ہوا ہوں زمانے،تیری نماز سے میں_!!
کیسے سنبھال پائیں گے خستہ بدن کی راکھ
ہم لڑتے لڑتے تھک گئے ہیں اپنے ہی بخت سے
جہاں محبت ہو جا کے پوچھو
کہ جس کو ملنا تھا کب ملا ہے
جہاں بھی دل ہو اُسے بتا دو
کہ ٹوٹ جانا لکھا ہوا ہے
جو ٹوٹ جاؤ تو کیا ہوا دل
تو لاڈلا ہے سنبھال لیں گے
غم تو جلنے ہیں شکمِ دل سے
جگر کے ٹکڑے ہیں پال لیں گے
مگر یہ جینے کی آبرو ہے
کہ تیرے بن کوئی جی رہا ہے
اس سے کہنا کہ جاتے جاتے
وہ مجھ کو جینا سیکھا گیا یے
بچھڑ کے رہنا تھا اس کی مرضی
یہ دل کے مالک کا فیصلہ یے
*زرا بیٹھو آپ میرے روبرو۔۔
*آپکو اشک اشک اتار لوں۔۔*
*آپکا لفظ لفظ ہے داستاں ۔۔*
*میں غزل کو آپ سے سنوار لوں ۔۔*
*کسی رات میں کسی خواب میں ۔۔*
*میری زندگی میرے پاس آ و۔۔*
*اسی رات میں اسی خواب میں ۔۔*
*میں یہ زندگی بھی گزار لوں...*
آوارہ مزاجی کہیں کا نہیں چھوڑے گی تمھیں
چھوڑ کے یہ در بدری، گھر کیوں نہیں جاتے
تم جس اذیت کا روز اتنا ڈھول پیٹتے ہو
زخم اتنا ہی گہرا ہے تو مر کیوں نہیں جاتے
تیرے جانے کے بعد......!!
جب تُم یُوں تنہا ہو جاؤ
کسی کے بچھڑ جانے کے بعد
سمجھو گے تُم وہ درد تب ہی
جب تڑپو گے کسی اپنے کے بعد
جی چاہتا ہے بیاں کر دوں
وہ درد لفظوں میں ہی سارا
پر ملتا نہیں اب تو کوئی حرف بھی
تیرے یُوں بچھڑ جانے کے بعد
اک شب بھی نہیں گُزری سکون سے
میرا چین لُٹ جانے کے بعد
میں آرزو تو نہیں ہوں مگر تو پال کے دیکھ
محبتوں میں کوئی راستہ نکال کے دیکھ
میں اپنی دونوں طرف ایک سا ہوں تیرے لئے
کسی سے شرط لگا پھر مجھے اچھال کے دیکھ
میں اپنے پاوں کے ناخن سے سر کے بالوں تک
فقط تیرا ہوں کہیں سے بھی کھول کھال کے دیکھ
رفاقتیں کبھی پابند سلاسل نہیں ہوتیں
جگنو قید میں رکھ کر نہیں پالے جاتے
مُجھ کو معلوم تھا ، رستے سے پلٹ جائیں گے
مَیں نے بے کار ہی یکجا کیئے، بھٹکے ہوئے لوگ
اور ہم!!
مرتے دم تک اُن لمحوں میں قید رہتے ہیں.!!
جِن لمحوں میں ہم جینا چاہتے تھے.!!
اور جِن لمحوں کو!!
جی لینا ضروری تھا..
کچھ بھی نہ بچا کہنے کو ہر بات ہوگئی
آؤ کہیں چائے پئیں بہت رات ہوگئی
سارا شہر شناسائی کا دعویدار تو ہے لیکن
کون ہمارا اپنا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
ہم نے اس کو لکھا تھا کچھ ملنے کی تدبیر کرو
اس نے لکھ کر بھیجا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
موسم‘ خوشبو‘ بادِ صبا‘ چاند‘ شفق اور تاروں میں
کون تمھارے جیسا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
یا تو اپنے دل کی مانو یا پھر دنیا والوں کی
مشورہ اس کا اچھا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
جس طرح چاہے بنا لے ، ہمیں وقت قتیل،
درد کی آنچ پہ ، پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم۔
جسکی شِدت سے تمنا تھی فقط اُس کے سِوا
بزمِ احباب میں ہر شخص نے چاہا مُجھ کو
تُو میسر جو ہوتا ،تو کہتے یہ ہم بھی
بھلی شے ہے محبت ، سبھی کیجئیے
تم تو ہر بیماری کے
حکیم تھے
پھر بھی یہ عشق لا
علاج کیسے رہے گیا
کَہِیں وَجُود کَہِیں پَر خَیال رہ گیا ہے
سو ہَر کِسی سے تعلق بَحال رہ گیا ہے
مَیں اِس اِدارے کا سَب سے ذَہِین بچہ تھا
تُمہارے عِشق کے چَکَّر میں سال رہ گیا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain