"تُمہارے دائرے میں ہوں اِک عمر سے محوِ گردش ،،
"میرا مَرکز نہیں بدلا_______ میرا محورنہیں بدلا ۔۔۔
تُو بھی اُلفت میں گِرفتار رَہا، جُھوٹ کَہا
مُحبتوں میں بـے قَرار رَہا، جُھوٹ کَہا
بَڑے سُکوں سے مُجھے چَھوڑ دِیا، تَوڑ دِیا
پھِر مِرے بعد سوگوار رَہا، جُھوٹ کَہا
کَٸی رُتوں سے مِرا حَال تَک نَہیں پُوچَھا
تُو رابطے کا طَلَبـگار رَہا، جَھــؔوٹ کَہـا
شاموں میں بہتریں ہے تری گفتگو کی شام
صبحوں میں معتبر تری صبحوں کا ذکر ہے
تو آخری خیال ہے سونے سے پیشتر
اور جاگنے کے بعد مری پہلی فکر ہے
ہر لفظ کے تمام معانی میں ہم بھی تھے ،
کیا دور تھا کہ تیری کہانی میں ہم بھی تھے ،
پھر ایک روز اُس نے غزل سے دیا نکال
وہ شعر جس کے مصرعۂ ثانی میں ہم بھی تھے ،
دل کے احساس سے ملتا ہے محبت کو دوام
پیار کے بول تو ہر شخص لئے پھرتا ہے
سگریٹ سے سیکھو وفا کا ہنر
جو سر سے ہاوں تک جل جاتی ہے اک ہونٹ کی حاطر
کہ راہ دیکھے گے تیری چاہے زمانے لگ جائیں
یا تو آ جائے یا ہم ٹھکانے لگ جائیں_____
وہ جو دِل میں تیرا مقــــــام ہے۔
کسی اور کو وہ ۔۔۔۔۔ دیا نہیـــں۔
وہ جو رشتــــہ تجھ سے ہے بن گیا۔
کســـــی اور سے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بنا نہیں۔
وہ جو سکـــھ ملا تیری ذات سے۔
کســی اور سے وہ ملا نہیــــں۔
تُو بسا ہے آنکھوں میں جس طرح۔
کوئی اور ایســـے ۔۔ بسا نہیــــں۔.
تم بڑے شہر کے واسی ہو تمہیں کیا معلوم
گاؤں کے لوگ تو جدائی میں اجڑ جاتے ہیں
کسی پہ پورا کُھلے تُو تو پھر سوال بنے
گلاب دودھ میں گوندھے گئے تو گال بنے
تمہاری آنکھوں پہ لکھنے کو جی تو چاہتا ہے
حروف سوجھیں تو شاید کوئی خیال بنے
ترے لبوں کو ضرورت ہی کیا بہار کی ہے
تُو مسکرائی تو پھولوں کے کتنے تھال بنے
طلوع ہوتی سحر سے بنی حسیں آنکھیں
شبیں نچوڑی گئیں تو تمہارے بال بنے
سلگ رہی ہیں مِری انگلیاں حرارت سے
تمہارے ہجر کی شامیں گِنی تھیں پوروں پر
بڑے راز پوشیدہ ہیں اِس تنہا پسندی میں
تعجب ہی کیا اگر کچھ لوگ مجھ سے ناخوش ہیں
بہت سے لوگ دنیا میں پسندیدہ بھی نہیں ہوتے.
تم تو کہتے تھے ، تم کو الہام ھوتے ھیں
تو بھی نہ سمجھ سکا کہ پریشان ھوں میں
یہ اذیت بھی بھلا کم ھے کہ تیرے ھوتے
میں کسی اور سے کہوں کہ پریشان ھوں میں ۔۔۔
تم کو مری دھڑکن کے توازن کی قسم ہے
اس دل سے اترنا بھی سلیقے سے پڑے گا
اس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں
اس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا
سرخیوں میں عیب سارے حاشیے میں نیکیاں
کیا کتاب زندگی ہے زندگی کی آڑ میں
مانگنے والے نے مانگا ہی نہیں تھا دل سے
ورنہ اک اشک کی دوری پہ خدا ملتا ہے
وقت کو میں کیسے برا کہہ سکتا ہوں ...!!!
یہ " وقت " ہی تو مجھے سب کی اصلیت دکھا رہا ہے
کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے تیرے سوا!!
میں آج کل تیرے عشق کے اعتکاف میں ہوں۔
ناز و نزاکت یاد نہیں اب
ہم کو محبت یاد نہیں اب
جیسے تیسے جی لیتے ہیں
رسم روایت یاد نہیں اب
رنگ چڑھا ہے ایسا اس کا
اپنی عادت یاد نہیں اب
خوبصورت آنکھوں سے جب وہ مجھے دیکھتی ہے.!
تو میں آنکھیں جھکا لیتا ہوں.!
کون ملاۓ ان آنکھوں سے آنکھیں.!
سنا ھے کہ وہ آنکھوں ہی آنکھوں سے اپنا بنا لیتی ہے.!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain