تم تو کہتے تھے ، تم کو الہام ھوتے ھیں
تو بھی نہ سمجھ سکا کہ پریشان ھوں میں
یہ اذیت بھی بھلا کم ھے کہ تیرے ھوتے
میں کسی اور سے کہوں کہ پریشان ھوں میں ۔۔۔
تم کو مری دھڑکن کے توازن کی قسم ہے
اس دل سے اترنا بھی سلیقے سے پڑے گا
اس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں
اس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا
سرخیوں میں عیب سارے حاشیے میں نیکیاں
کیا کتاب زندگی ہے زندگی کی آڑ میں
مانگنے والے نے مانگا ہی نہیں تھا دل سے
ورنہ اک اشک کی دوری پہ خدا ملتا ہے
وقت کو میں کیسے برا کہہ سکتا ہوں ...!!!
یہ " وقت " ہی تو مجھے سب کی اصلیت دکھا رہا ہے
کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے تیرے سوا!!
میں آج کل تیرے عشق کے اعتکاف میں ہوں۔
ناز و نزاکت یاد نہیں اب
ہم کو محبت یاد نہیں اب
جیسے تیسے جی لیتے ہیں
رسم روایت یاد نہیں اب
رنگ چڑھا ہے ایسا اس کا
اپنی عادت یاد نہیں اب
خوبصورت آنکھوں سے جب وہ مجھے دیکھتی ہے.!
تو میں آنکھیں جھکا لیتا ہوں.!
کون ملاۓ ان آنکھوں سے آنکھیں.!
سنا ھے کہ وہ آنکھوں ہی آنکھوں سے اپنا بنا لیتی ہے.!
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑ ے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو ، تو سوچتی ہو کیا
اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا
نہ ترکِ عشق ہے ممکن نہ شرطِ عشق آساں
دل خراب نے ڈالا ہــــــے کس بکھیڑے میں
تم بے عیب چاہو تو فرشتوں سے نبھاہ کر لو
میں آدم کی نشانی ہوں مجھے انسان ہی رہنے دو
شکنجے ٹوٹ گئے زخم بدحواس ہوئے۔۔۔
ستم کی حد ھے کہ اہلِ ستم اُداس ہوئے۔۔
ذرا سی دیر میں۔۔ اُترے گا جب خُمارِ جہاں
اُس ایک شخص نے بے حد پُکارنا ہے مجھے
دل کی مسند پہ اس کو بٹھایا میں نے لیکن
اس کو آیا ہی نہیں مجھ پہ حکومت کرنا
واہ ! کیا چیز ھے یہ شدتِ ربطِ باہم !
بارہا خود میں مجھے تیرا گماں ھوتا ھے
اے عشـق اِدھر آ تُجھے عشـق سکھاٶں
دربارِ منّ میں بٹھا کر تُجھے بیعت کراٶں
*تھک جاتے ہیں لوگ اکثر تیری عین پہ آکر*
*عین شین سے آگے تیرے' ق ' میں سماٶں۔۔۔*
تُو جُھوم اُٹھے دیکھ کر دیوانگی میری
آ۔۔۔وجد کی حالت میں تُجھے رقص دکھاٶں۔۔۔
یہ جو ہم ہیں خاموشیوں میں گمشدہ لوگ!!!
پھولوں کی طرح کھلتے ، اگر آرزؤں میں نہ الجھتے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی کے موسم ہوتے ہیں
وہ چلے جائیں , تو
درجہ حرارت منفی ہو جاتا ہے
وہ بے وقت سو جائیں , تو
ٹھنڈک مزید بڑھ جاتی ہے
وہ آ جائیں , تو
دھوپ میں بارش ہونے لگتی ہے
وہ دور ہو جائیں, تو
دل کا آسمان بے رنگ ہو جاتا ہے
اظہار، شوق ، آس ، تماشہ ، فسردگی
کیوں دل کو اتنا بار اٹھانے کا شوق ہے
برباد ہوتے جائیں گے جتنا کرو گے تم
ہم کو تمھارا ہاتھ بٹانے کا شوق ہے
تیرے عشق کی ایک بُوند اِس میں مل گئی تھی
اِسی لیے میں نے عُمر کی ساری کڑواہٹ پی لی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain