یہ جو ہم ہیں خاموشیوں میں گمشدہ لوگ!!!
پھولوں کی طرح کھلتے ، اگر آرزؤں میں نہ الجھتے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی کے موسم ہوتے ہیں
وہ چلے جائیں , تو
درجہ حرارت منفی ہو جاتا ہے
وہ بے وقت سو جائیں , تو
ٹھنڈک مزید بڑھ جاتی ہے
وہ آ جائیں , تو
دھوپ میں بارش ہونے لگتی ہے
وہ دور ہو جائیں, تو
دل کا آسمان بے رنگ ہو جاتا ہے
اظہار، شوق ، آس ، تماشہ ، فسردگی
کیوں دل کو اتنا بار اٹھانے کا شوق ہے
برباد ہوتے جائیں گے جتنا کرو گے تم
ہم کو تمھارا ہاتھ بٹانے کا شوق ہے
تیرے عشق کی ایک بُوند اِس میں مل گئی تھی
اِسی لیے میں نے عُمر کی ساری کڑواہٹ پی لی
چھیڑ تی ہیں کبھی لب. کبھی
رخساروں کو
تم نے زلفوں کو بہت سر پے چڑھا رکھا ہے
اُٹھ کر داد اگر دے سارا مجمع تو بھی تھوڑی ھے
میرے شعر کا دوسرا مصرع اُس کی پاگل آنکھیں ھیں
اتنا غرور کس بات کا ہے جب زندگی کے سارے راستے قبرستان کو ہی جاتے ہیں....
سُنا ہے آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے
ہمارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے ؟ نہیں ہے نا۔
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا۔
دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گُریز
محبتیں تو گئیں تھیں عداوتیں بھی گئیں۔
کتنے دلکش تھے محبت کی شروعات کے دن
وہ روانی تھی کہ ٹھہراؤ نہیں بنتا تھا!
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
پروین شاکر
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سورج دماغ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں
زلفِ شبِ فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے
زندگی چیخ____بن گئی میری
درد ایسے الجھ پڑے مجھ سے..
محبت کے لئے خوبصورت عورت کی تلاش نہ کریں آپ جس
عورت کو بھی محبت دیں گے وہ خوبصورت ھو جائے گی
میں نے اُس کے کان میں سرگوشی کی
مُجھے تُم سے مُحبت ہے
اُس نے خُوشی سے کہا
اِسے میرے دوسرے کان میں دہرائیں
تاکہ میں اپنا توازن بَحال کر سکُوں
دل کی مسند پہ اس کو بٹھایا میں نے لیکن
اس کو آیا ہی نہیں مجھ پہ حکومت کرنا
آپ کَر لیجیے 'جو ہے دستیاب چارہ جوئی....!!!
ہم تو ہَر بار ہیں ہارے__ یہ دل مناتے ہوئے۔۔۔۔!!!!
ہزار شُکر کہ ہم مصلحت شناس نہ تھے
کہ جس سے عشق کیا ہم نے والہانہ کیا
تجھ کو اظہار محبت کی ضرورت کیا ہے
ایک مصرعے سے ہی وہ بات مکمل کر دے
جگمگاتا ہوا اک خواب سرہانے رکھ جا
چاند سے شخص مری رات مکمل کر دے
دیکھ اشک آنکھوں میں چھپا لئے ہیں میں نے
دیکھ درد کو چھپانا مجھے بھی آ گیا ہے
تو کہتا تھا نا کہ کوئی میرے سنگ نہیں چلے گا
دیکھ، دکھ درد تنہائی کتنے ہمسفر بنا لئے ہیں میں نے
ساری ساری گزرتی تھی تیری یادوں میں کھوئے کھوئے
خواب جتنے بھی تھے ۔ سارے مٹا دئیے ہیں میں نے
اب بہت مشکل ہے میرا لوٹ کے آنا بھی ان راہوں پر
ساری کشتیاں۔ سارے چپو جلا دیئے ہیں میں نے
یہ نہیں ہے کہ تو مجھے اب کبھی یاد نہیں آتا
تجھے یاد رکھا ہے۔ اور وعدے بھلا دیئے ہیں میں نے
ساغرؔ وہی مقام هے اک منزل فراز!!!
اپنے بھی جس مقام پہ بیگانے بن گئے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain