اُس کو پھول پسند نہیں تھے مگر وہ باتوں کی دیوانی تھی تو میں باتوں ہی باتوں میں اُسے اپنا دل دے آیا_
میں نے جُون میں دعا مانگی تھی اب جا کر قبول ہوئی
ٹینکی سے ٹھنڈا پانی نکلنے لگا ہے خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں
لوگ ہمارے اندر ہمارا دکھ نہیں تلاش کرتے
ان کو اس تماشے کی کھوج ہوتی ہے
جو ہمارے ساتھ ہوا ہو۔۔۔۔!!!!
عزت کی بات کرتے ہو
تو سنو صاحب
رات کو مچھر بھی پاؤں چومنے آتے
ہیں
_______*level ha*
مجھے یہ سارے مسیحا عزیز ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تم سے فاصلہ رکھوں
میرے مرنے کی خبر ذرا کم پھیلانا
میرے چاہنے والے بہت ہیں ۔۔۔۔ بریانی کم پڑ جائے گی ۔۔
*کوئی امید نہیں ہے اب اس زمانے سے*
____
*سب چھوڑ جاتے ہیں کسی نا کسی بہانے سے*
طَلب کے جزیرے پر
تمنا کا ہر اِک پُھول تمہارے نام کا کِھلتا ہے.!!!
لفظ کہہ رہے تھے کہ آئے گا گاؤں واپس
اور لہجہ اس کا آخری ملاقات جیسا تھا
جو لوگ بظاھر خوش اور مطمئن نظر آتے ہیں
ان کے خیالات احساسات اور جذبات وہ جانتے ہیں یا ان کا اللہ
روٹ چلے ہیں اس دفعہ لمبا تم سے...
اس دفعہ یقینا ہم کبھی نہیں لوٹیں گے
*ایسے نہ کہو کے قسمت کی بات ہے...!*
*میری تنہائی میں کچھ ہاتھ تمہارا بھی ہے*
کسی روز سگریٹ کی طرح پھونک ڈالیں گے
یہ جو مرشد ، نواب ، سرکار بنے پھرتے ہیں
ھم نشیں خاموش__!!! یہاں دیواریں بھی سنتی ھیں
رات ڈھل جائے ___ تو چھیڑیں گے فسانہ کوئی___!!
بڑے خلوص سے مانگی تھی روشنی کی دعا
بڑھا کچھ اور اندھیرا ، چراغ جلنے سے ____!!!!!!
تیری واپسی پر ہی نظر تھی ھمیشہ
مجھے اس بات کی خبر تھی ھمیشہ
اٹھایا ہی نہیں تھا میری طرف قدم
اسی لیے تیری اگر مگر تھی ھمیشہ
عشق میں جوانی تیرے اس طرح برباد کی ہے
جیسے زلیخا کی طرح جوانی دوبارہ ملنی ہے
آج تو اپنی ہی توہین ہوئی ہے مجھ سے
تری ہر بات پہ آمین ہوئی ہے مجھ سے
پھر کسی درد کے دریا کا کنارہ ٹوٹا
پھر کسی خواب کی تدفین ہوئی ہے مجھ سے
کیا عجب لوگ ہیں اُلجھے ہوئے اُلجھائے ہوئے!
ساتھ رہتے ہوئے، ہنستے ہوئے، اُکتائے ہوئے!
سرہانے چھوڑ گیا ہے____ادھُوری، تعبیریں
وہ ایک خواب جو برہم رہا ہے آنکھوں میں__٭
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain