لوگ اپنی شروع میں دی گئی محبت اور توجہ کا بدلہ آخر میں سود سمیت اذیت دے کر واپس لیتے ہیں۔
گھاؤ گنتے نہ کبھی" زخم شماری" کرتے
عشق میں ہم بھی اگر "وقت گزاری" کرتے
تجھ میں تو خیر محبت کے تھے پہلو ہی بہت
دشمن جاں بھی اگر ہوتا تو" یاری" کرتے۔
ہوگئے دھول تیرے راستے میں بیٹھے بیٹھے
بن گئے عکس تیری" آئینہ داری "کرتے۔
وقت آیا ہے جدائی کا تو اب سوچتے ہیں
تجھے اعصاب پہ اتنا بھی "نہ طاری" کرتے۔
ہوتے سورج تو ہمیں شاہِ فلک ہونا تھا
چاند ہوتے تو ستاروں پر "سواری "کرتے۔
کبھی ایک پل نہ ملا تختِ تخیل ورنہ
تیری ہر سوچ کو ہم "راجکماری" کرتے۔
آخری داؤ لگانا نہیں آیا "محسن"
زندگی بیت گئی خود کو "جواری" کرتے۔
مجھ کو پتہ هے !!!!! چپ کہ خسارے تو ہیں مگر
کیسے گھسیٹ لاؤں !!!!!!!!!!! اسے بات کی طرف۔
مثلِ مہتاب.........! سہولت سے گزر جا ہم سے
ہم سیاہ بخت ہیں...گرہن نہ لگا دیں تجھ کو۔
یہ جو اہلِ جہاں میں ”عاشق “ بنے بیٹھے ہیں نہ !!
عزت کے "ع" کا پتا نہیں ہے،
اور عشق کے "ق" کی بات کرتے ہیں
تمھیں معلوم تھوڑی ہے کہ قحط کیا شے ہے
ابھی تو بس تمھیں میری فراوانی میسر ہے
بدنظری سے رکھتی ھے اِن جنتی میووں کو محفوظ
خوش ھے تیری نتھلی تیرے ہونٹوں کی دربانی میں
پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئے
پھر یوں ہوا کہ شہر بیابان ہوگئے..........
پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے
ہم اتنا چلے کہ رستے حیران ہوگئے.........
زہریلے تعلقات کو کاٹ دینا ہی مناسب ہے!!
سانپوں سے حسنِ سلوک جرم ہے
زہریلے تعلقات کو کاٹ دینا ہی مناسب ہے!!
سانپوں سے حسنِ سلوک جرم ہے
یہ نفع بھی تو مجھ کو خسارہ ہے اک طرح
ماں باپ چھوڑ کر جو میری نوکری لگی ہے
دیکھو ! یہ ضبطِ سوزِ محبت بُرا ھے داغؔ
تم جل نہ جاؤ آپ ، کہیں اپنی آہ سے__!!..
کارِ حیات ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا
اُلجھے تو پھر سُلجھ نہ سکے تار زیست کے ...
تمہارا ہمسفر ہونا میری اندھی تمنا تھی
مگر دستورِ دنیا ہے جیسے چاہو ملتا نہیں
تمہارے ہر اشارے پر سرِ تسلیم خم لیکن
گزارش ہے کہ جذباتِ محبت کو ذرا سمجھو
ہاں جی
منگنی ہو گئ ہے یہ پھر میری
طرح آ زاد امید وار ہیں
اک حسینہ تھی اک دیوانہ۔۔۔۔۔تھا
پھر کیا حسینہ کی کریم مک گئی
اور دیوانہ اب کومہ میں ہے
اوڑھ لی ہے خاموشی، گفتگو نہیں کرنی
دل کو مار دینا ہے ، آرزو نہیں کرنی۔۔۔۔!!!
اب تمہاری راہوں میں دھول بھی نہیں ہونا
اور تم کو پانے کی جستجو نہیں کرنی۔۔۔۔۔!!!
اس ڈر سےمیں قمیص کبھی جھاڑتا نہیں
کب جانے آستین سے احباب گر پڑیں
جاگیں تو احتیاط سے پلکوں کو کھولئے
ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے کچھ خواب گر پڑیں
اتنا بھی مت بڑھایئے رخت سفر کہ کل
جب پوٹلی اٹھائیں تو اسباب گر پڑیں
رہنے بھی دیں نہ منھ مرا کھلوائیے جناب
ایسا نہ ہو کہ آپ کے القاب گر پڑیں
یُوں تو آدابِ مُحبت میں سبھی جائز تھا
پھر بھی چُپ رہنے میں اک شانِ دل آویزی تھی۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain