کبھی تو
ملن کا......
خُدایا بنے کُچھ
بہانہ.... وسیلہ....
ذریعہ وغیرہ وغیرہ
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے...... بہانے مانگے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو...... فسانے مانگے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لئے
اب یہی ترکِ تعلق کے........ بہانے مانگے
چلو پھر لوٹ جائیں ہم
جہاں پر کچھ نہیں بدلا
نہ ماہ و سال بدلے ہیں
نہ ماضی حال بدلے ہیں
وہاں ہم لوٹ جائیں پھر
جہاں معلوم ہو ہم کو
نہیں کچھ اور ہے بدلا
فقط ہم تم ہی بدلے ہیں
وہی مٹی ، وہی خوشبو
وہی سوندھی فضائیں ہیں ...
کبھی یوں بھی آ میری آنکھ میں
کہ میری نظر کو خبر نہ ھو
مجھے ایک رات نواز دے
مگر اس کے بعد سحر نہ ھو
وہ بڑا رحیم و کریم ھے
مجھے یہ صفَت بھی عطا کرے
تجھے بُھولنے کی دعا کروں
تو میری دعا میں اثر نہ ھو
مرے بازوؤں میں تھکی تھکی
ابھی محوِ خواب ھے چاندنی
نہ اٹھے ستاروں کی پالکی
ابھی آھٹوں کا گزر نہ ھو
ﺍﻧﺎ ﭘﮧ ﭼﻮﭦ ﭘﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺩُﮬﻮﺍﮞ ﺳﺎ ﺩِﻝ ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﭩّﯽ ﭘﮧ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﮨَﻮﺍ !
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍُﺟﺎﮌ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﺻَﺪﺍ ﺩﺭﯾﭽﮯ ﻣﯿﮟ،
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺮﺍﻍ ﺟَﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
عشق میں مائل درگاہ نہیں ہو سکتے
مر بھی جائیں تو تری "چاہ" نہیں ہو سکتے
سب کو کنگن سے محبت نہیں ہوتی ، پاگل !
سارے شاعر تو وصی شاہ نہیں ہوسکتے
کون آتا ہے زمانے کی گھڑی باتوں میں
چاہنے والے تو گمراہ نہیں ہو سکتے
میں اپنے دکھ کہاں___بانٹتا پھروں محسنؔ
میں اپنی چیزیں فقط اپنے پاس رکھتا ہوں
ڈُھونڈتا پِھرتا ہُوں اِک شہرِ تخّیُل میں تُجھے
اور میرے پاس تیرے گھر کی نِشانی بھی نہیں...
ڈُھونڈتا پِھرتا ہُوں اِک شہرِ تخّیُل میں تُجھے
اور میرے پاس تیرے گھر کی نِشانی بھی نہیں...
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺸﮑﻮﻝ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﺍﮈﮬﯿﺮ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﮮ
تمھارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تھکا دیا ہے تمھارے فراق نے مجھ کو
کہیں میں خود کو گرا لوں اگر اجازت ہو
ہنسی آتی ہے اپنی ہی اداکاری پہ خود ھم کو
بنے پھرتے ہیں یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہیں
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں
تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں
پھول دامن میں چند رکھ لیجئے
راستے میں فقیر ہوتے ہیں
زندگی کے حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں
اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
سو چاند بھی چمکیں تو کیا بات بنیگی،
تم آؤ جس رات میں بس وہ رات بنیگی..!
کاش تعبیر بھی آ جائے کسی روز نظر
آئے دن خواب یہ آتے ہیں کہ وہ آتے ہیں
عجب_تقاضے_ہیں_چاہتوں_کے
پہلے آ جاتی تھی قابُو میں اُداسی پر اب.
ایسی وحشت ہے کہ لُوں سانس تو دِل دُکھتا ہے.
میں ترے ہجر کے لمحات گنا کرتی ہوں
دیکھ نا پڑ گئے ہیں ہاتھ میں چھالے کتنے.
تم پہ گزرے تو "آہ"
ہم پہ گزرے تو "واہ"...
بڑھاپا خوب صورت ہے!!!
جنہیں دیکھیں تو آنکھوں میں
ستارے جگمگا اُٹھیں!
جنہیں چُومیں تو ہونٹوں پر
دُعائیں جھلمِلا اُٹھیں!
جواں رشتوں کی دولت سے
اگر دامن بھرا ہو تو!
رفیقِ دل، شریکِ جاں برابر
میں کھڑا ہو تو!
بُڑھاپا خوب صورت ہے!!!
بُڑھاپا خوبصورت ہے اگر
زرا سا لڑکھڑائیں تو
سہارے دوڑ کر آئیں!
نئے اخبار لاکر دیں
،پُرانے گیت سُنوائیں!
بصارت کی رسائی میں
پسندیدہ کتابیں ہوں!
مہکتے سبز موسم ہوں،
پرندے ہوں،شجر ہوں تو!...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain