رو رہے ہو ؟ اے مرے پہ ہنسنے والے
اب تو سمجھے ہو نا یہ درد کہاں ہوتا ہے؟
اب تو "ہنسنے" پہ بھی اشعار نہیں کہتا میں
ایسا کرنے سے بھی وحشت کا زیاں ہوتا ہے
آپ کے سر کی قسم میں نہیں پیتا سگریٹ
دل سلگتا ہے تو کمرے میں دھواں ہوتا ہے
کچھ بھی کیا ہو ہم نے ، کہیں بھی گئے ہوں ہم
حد سے تمہاری یاد کی باہر گئے ہیں کیا.
"جن دریچوں میں ہوا تک نہیں آتی، اُن میں...!!
مجھکو حیرت ہے کہ تیری یاد چلی آتی ہے..."
گلے ملنا نہ ملنا تو تیری مرضی ہے لیکن
تیرے چہرے سے لگتا ہے تیرا دل کررہا ہے
سربازار لاش کے دو ٹکڑے پڑے تھے۔۔۔
سر ادھر پڑا تھا دھڑ ادھر پڑا تھا۔۔۔
تازہ خون جو اس لاش سے بہہ رھا تھا۔۔
زمین کا وہ حصہ خون سے ترپڑا تھا۔۔۔
کسی نے پوچھا کون کمبخت ہے یہ اور کیا جرم کر بیٹھا ہے۔۔
قاتل پاس کھڑا تھا اور بولا۔۔
عشق ھوں میں اور یہ مجھ سے لڑ پڑا تھا۔۔۔
اس کی محبت کا سلسلہ بھی کیا عجیب تھا
اپنا بھی نہ بنایا اور کسی کا ہونے بھی نہیں دیا
کم از کم اتنی تو 'سنی' جائے
کہ نظر ہم سے لڑائی جائے!!
اک مدت سے 'اداس' ہے دل
ذرا اس پر مہربانی کی جائے!!
بہت ہمت والا ہوں
پر کبھی کبھی ہار جاتا ہوں
کچھ باتیں سن کر
کچھ لہجے دیکھ کر
اب جو بھی یہ در کھٹکائے اس کو در کھٹکانے دو
اور جو دل سے جانا چاہے اس کو فوراًجانے دو
اپنی محبت سولہ آنے تھی سو اب تک باقی ہے
اس کی محبت کے کیا کہنے جس کی قیمت آنے دو
تم نے ہم کو چھوڑ دیا تو اب کیوں پیچھا کرتے ہو
جتنی تھی بربادی ہوگئی اب ہم کو پچھتانے دو
کوئی پاگل ہی نوازے گا محبت سے مجھے،
آپ تو خیر_______سمجھدار نظر آتے ہیں !
بیعت کر ہمارے ہاتھوں پہ اے عشق
تڑپنا کسے کہتے ہیں یہ اب ہم بتائیں گے
درد پیا، ہمدرد پیا
سب لوگ یہاں بے درد پیا
ہم آنکھیں بھی نا کھول سکیں
یہاں ہر سُو غم کی گرد پیا
یہ آنگن تجھ بن سُونا ہے
تُو میرے دل کا فرد پیا
میں تیرے بن بے جان بہت
مری تجھ بن سانسیں سرد پیا
بچھڑتے وقت ساری برائیاں گِنوائی اس نے
سوچ رھا ہوں
جب ملےتھےکیا ہنر تھا مجھ میں.!!
جب مری قبر پہ وہ پُھول چڑھانے آئے
موت کی نیند کے ماتوں کو جگانے آئے
کوئی اُس وعدہ فراموش سے اتنا کہتا
آپ اب کس لئے رُوٹھوں کو منانے آئے
آ بسے شہرِ خموشاں میں، مِلے خاک میں ہم
آپ کیوں خاک کو پُھولوں سے بسانے آئے
میری بے چین آنکھوں میں جب وہ تشریف لاتے ہیں....
تصور ان کے دامن سے لپٹ کر رقص کرتا ہے.....
لے دے کے اب تو ایک تمنا بچی ہے بس
مرنے کے بعد چہرے پہ افسردگی نہ ہو
تیرے ہجر میں گزرے ہوئے سالوں سے محبت
یہ حال کے پاؤں کے بھی چھالوں سے محبت
جو تجھ سے ہو وابستہ اُس ہر چیز سے ہے عشق
تیرے نام سے تیرے ذکر سے حوالوں سے محبت
غیروں کو کیا پڑی ہے کہ رسوا کریں مجھے
ان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے
لازم نہیں ہے سب پہ کہ غش کھا کے گِر پڑیں
چل ہم بھی دیکھتے ہیں چمک کوہِ طُور کی
آئے ہیں مے کدے میں تیری خیر ساقیا
ہم کو بھی کر عطاء کوئی بوتل سرُور کی
واعظ یہ کہہ رہا ہے کہ جنت میں مے بھی ہے
یعنی کہ سوچ رکھی ہے اُسنے بھی دُور کی
واللّٰہ مجھے تو شیخ سے کوٸی بچاٸیو
آٸی ہے خُلد سے یہ صدا ایک حُور کی
کچھ بھی نہیں تھاوصل میں قِصّہ سُنائیں کیا
پر ہاں لبُوں سے ایک شرارت ضرُور کی
دکھ تو ایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے
ایک وعدہ ہے جو رونے نہیں دیتا مجھکو🍁
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain