کہیں فضائے چمن کو نظر نہ لگ جائے
گلوں کو خوب بھی کہہ عیب بھی نکالے جا
ہمارے دل کو جلاؤ جلا کے چلتے بنو!
تم اپنی بات سُناؤ سُنا کے چلتے بنو!
یہ خیر خواہی کا ناٹک عجیب ناٹک ہے
چلو یہ جھوٹ اٹھاؤ اٹھا کے چلتے بنو!
یہ دُنیا ساتھ اُٹھانے کی بات رہنے دو !
دو چار پل ہیں نبھاؤ نبھا کے چلتے بنو!
ہم اپنا بوجھ اُٹھائیں گے کس طرح ، چھوڑو
تم اپنا بوجھ اُٹھاؤ . . . . . اُٹھا کے چلتے بنو!
سائل ہے مگر دستِ طلب کانپ رہا ہے
یہ شخص مجھے مانگنے والا نہیں لگتا
الزام تجھ پر کہاں دھرنے والے ہیں ترک تعلق کا
سر دیوار یہ لکھ دیں گے ہم سے نبھاٸ نہ گٸ
ﺍﺏ ____ﺗﺠﮫ ﭘﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ…… ﻧﮩﯿﮟ ﻭﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ
تارے بھی تو محور سے نکل جاتے ہیں پیارے
آخر کوئی کب تک ترے چکر میں رہے گا
زنجیر قفس ٹوٹ بھی جائے تو پرندے ،،،
صیاد کے نوچے ہوئے پر یاد کریں گے ،،،
معافی غلطیوں کی ہوتی ہے
ذیادتیوں کی نہیں.
کفارہ صغیرہ کا ہوتا ہے
کبیرہ کا نہیں.
ہموار کھینچ کر، کبھی دُشوار کھینچ کر
تنگ آچکا ھوں سانس لگاتار کھینچ کـر
میدان میں اگر نہ آتا میں تلوار کھینچ کر
لے جاتے لوگ مصر کے بازار کھینچ کر
خاطر میں کچھ نہ لائے گا یہ سائلِ عشق ہے
تم کیوں روکتے ھو ریت کی دیوار کھینچ کر
اُکتا چُکا یہ دل بھی، نظر بھی، میں آپ بھی
مُدّت سے تیری حســرتِ دیدار کھینچ کـــــر
ہرگز یہ ایسے ماننے والی نہیں میاںؔ
دُنیا کو دو لگا سرِ بــازار کھینچ کـــر
جــاتا رہا وہ کیف نہـــاں جو چُبھن میں تھا
پچھتا رہا ھوں پاؤں کے اب خار کھینچ کر
خیال جس کا تھا مجھے ، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی ، سوال میں ملا مجھے
گیا تو اِس طرح گیا... کہ مُدتوں نہیں مِلا
مِلا جو پھر تو یُوں... کہ وُہ ملال میں ملا مجھے
تمام علم زیست کا گزشتگاں سے ہی ہوا
عمل گزشتہ دور کا ، مثال میں ملا مجھے
ہر ایک سخت وقت کے بعد اور وقت ہے
نشاں کمال فکر کا ، زوال میں ملا مجھے
نہال سبز رنگ میں جمال جس کا ہے منیرؔ
کسی قدیم خواب کے محال میں ملا مجھے
وہم سے بھی ختم ہو جاتے ہیں اکثر رشتے
قصور ہر بار غلطیوں کا نہیں ہوتا
"_ جسکی قدر کرو وہ وقت نہیں دیتا, اور
جسکو وقت دو وہ قدر نہیں کرتا..., "
سمجهنے والے خاموشی کو بهی سمجھ لیتے ہی
اور نہ سمجهنے والے جزباتوں کا بهی مزاق بناتے ہیں
خاموشی بھی اس کی محسوس ہوتی ہے جس کا بولنا اچھا لگتا ہے
اور دکھاتی رہی تصویریں تری شادی کی
کل مرے ضبط سے کھیلی ہے سہیلی تیری
پھر وہی انتظار کی زنجیر
رات آئی، دئے جلانے لگے
وہ مرے عشق کی گہرائی سمجھتا ہی نہیں
راستہ دور تلک جائے تو بل کھاتا ہے
عجیب لوگ ہیں آزادیوں کے مارے ہوۓ
قفس میں پوچھتے پھرتے ہیں گھر کہاں تک ہے
ہم اُن آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں
یہ ہاتھ اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے.
بچھڑنے والے میں سو عیب تھے مگر فرہاد
وہ بد دماغ میرا مسئلہ سمجھتا تھا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain