کروٹ بدل کے سو گئی ٫ دِل میں کسی کی یاد
پل بھر کو اِک جہان سا ٫ پھیلا سِمٹ گیا
رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں
اتنا نہ تیز کیجۓ ڈھولک کی تھاپ کو
دل بھی آباد ہے اک شہرِ خاموشاں کیطرح
ہر طرف لوگ ہیں ___مگر عالمِ تنہائی ہے
گردشِ زمانہ سے گھبرا کر میں نے ،
تصور میں کئی بار تیرے کندھے پر سر رکھا_!!
یہ بھی تو ممکن ہے، تم جس سے محبت کرو وہ تمہاری فیلنگز سمجھے ہی نہیں_____!
اور پھر یہ بھی تو ممکن ہے
کوئی تمھاری مسکراہٹوں پہ مرتا ہو اور تمہیں خبر تک نہ
ہو _____!!!!
تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے
ہم تو وہ ہیں، ترے چہرے سے دکھائی دیں گے
ہم کو محسوس کیا جائے ہے خوشبو کی طرح
ہم کوئی شور نہیں ہیں جو سنائی دیں گے
فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلاف
آپ کیا خاک عدالت میں صفائی دیں گے
پچھلی صف میں ہی سہی، ہیں تو اسی محفل میں
آپ دیکھیں گے تو ہم کیوں نہ دکھائی دیں گے
آنکھ کُھلتے ہی ___میرے ہاتھ سے چِھن جاتا ہے
حالتِ نیند میں __ اِک خواب سے مانگا ہوا تُو _
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گـــے
اب کونے میں ڈھیر لگا ھے باقی کمرہ خالی ھے
بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ھے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں ھـــے جتنی آگ جلا لی ھـــــے
اِک کمرہ سازوں سے بھرا ھے ، اِک کمرہ آوازوں ســـے
آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں ، ویسے یہ گھر خالی ھے
دن تو اس شہر کی رونق میں گزر جاتا هے
یاد کچھ لوگ رات ڈھلے بہت آتے ہیں۔
عشق اپنی جگہ لیکن یہ اُصُولِ فِطرت ہے
آگ کے پہلُو میں _ برسات نہیں ہو سکتی
میں عطاء ہوں تُجھے اور یہ عطاء کا اُصُول ہے
عطاء کسی اور کو ___ خیرات نہیں ہو سکتی ...
زندگی بہت غیر یقینی ہے
محبت کو اسی وقت خود میں جذب کر لینا چاہئیے جب وہ خود کو پیش کرتی ہے۔
اب میری راہ میں، حائل نہیں ہوتی یادیں ،
اب تیرے شہر سے گزروں تو گزر جاتا ہوں_!!
اگر زندگی کبھی روشنیوں کا تحفہ دے تو انہیں مت بھولنا جنہوں نے کبھی آپکے اندھیرے بانٹے تھے۔
تلخِ صدمات پہ ___ ماتم کی بجائے میں نے
اتنا ہنسنا ہے کہ ____رونا ہے کئی لوگوں نے_!
میرے احباب مُجھے لُوٹ کے نِکلے ہیں ابھی
میرے دشمن تُجھے اس بار بھی تاخیر ہوئی
تمہارا دیدار اور وہ بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ..
یہ کشش قلم سے بیاں کرنا میرے بس کی بات نہیں !!
اٹکتے سسکتے ٹوٹتے مچلتے مر گئی ہے مجھ میں
وہ بھوک جو تجھے پانے کی لگی تھی مجھ میں
لوگ تو لوگ تھے آوارہ سمجھتے تھے مجھے
تیری کھڑکی سے تو پتھراؤ نہیں بنتا تھا۔
مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مرے بازوؤں میں ہے
یعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا ۔۔!
راہِ نفرت میں بھٹکتی ہوئی وحشی دُنیا
تُجھ کو اِک راز بتاؤں کسی اُجرت کے بغیر
کمسنی ہو ، جوانی ہو ، یا کہ ہو بڑھاپا
آدمی جی ہی نہیں سکتا محبت کے بغیر
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain