تو جو چاہو تو بن جاؤں میں پارساؤں کی امام ۔۔۔۔۔
تم جو چاہو تو ہو جاؤں گنہگار بلا کی میں ۔۔۔۔۔۔
تجھ سے بچھڑے ہیں مگر عشق کہاں ختم ہوا ہے
یہ وہ جیتی ہوئی بازی ہے---------جو ہاری نہ گئی
تو ہے وہ خواب--....---جو آنکھوں سے اتارا نہ گیا
تو ہے وہ خواہش------------جو ہم سے ماری نہ گئی
اس درد کی تحویل میں رہتے ہوئے ہم کو،
چپ چاپ بکھـرنا ہــے تماشـا نہیں کـرنا_!!
"کیا لوگ کہیں گے" کا گُماں کِس لیۓ ہر وقت
کُچھ دیر زمانے کو بُھلا کیوں نہیں دیتے۔۔۔!
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے..
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے...
خیال کتنے بھی ہوں میں سوچتا تمھی کو ہوں
بھیڑ کتنی بھی ہو میں ڈھونڈتا تمھی کو ہوں
تیرے عشق کا جانے کیسا اثر ہوا ہے مجھ پر
ضرورتیں کتنی بھی ہوں میں مانگتا تمھی کو ہوں
یہاں بڑا ہجوم تھا ، یہیں کہیں تھیں رونقیں،
وقت کھا گیا سبھی ، وہ دوستیاں وہ رابطے_!!
جذبے تمام کھو جاتے ہیں لمحوں کی دھول میں
دل میں بس دھڑکنوں کے سوا کچھ نہیں رہتا!
کٹ رہی ہے ان دنوں یہ زندگانی جس طرح
میں کسی میلے میں ہوں اور جیب میں پیسے نہیں".
ہمارا تعلق ۔۔۔۔ آسمانی ہے
میں جتنی شدت سے
محبت کے وجود سے انکاری تھا
اتنی شدت سے ہی محبت مجھ پر حملہ آور ہوئی
آپکــــو دیکھ کر دل آپکا اسیر ہوا
اور میں پہلی نظر کی محبت پر ایمان لے آیا
آپ سے مل کر لگا ۔۔۔ یہ سلسلہ روحانی ہے
ہمارا تعلق تو ۔۔۔۔ آسمانی ہے
میری تصویر بناؤ تو سب رنگ بھرنا محبت کے
مگر جب آنکھیں بناؤ تو آنسو رواں رکھنا
جوشِ جنوں میں لطف تصور نہ پوچھیٸے___
پھرتے ہیں ساتھ ساتھ انہیں ہم لیٸے ہوٸے___
ترے قدموں کے نیچے یہ زمیں اچھی نہیں لگتی،
میں اپنا دل بچھاوں گا زمانہ خوب دیکھے گا_!!
الاماں آنکھوں کی نیم افســردہ سی افسوں گری
ایک دھندلا ســــا تبسم اک تھکی سی دلبـــری
ہم تیرے بعد گرے خستہ مکانوں کی طرح
کہیں کھڑکی ،کہیں کنڈی ،کہیں در چھوڑ گئے
اس نے مجھ کو یوں بھی چھوڑ ہی دینا تھا
مجھ کو کون سا میٹھی باتیں آتی تھیں
بے خبر کو بھی تو اِک روز یہ خبر ہوگی
کہ تتلیوں کو کیوں اچھے گلاب لگتے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ ہوتا ہے اثر باتوں میں
تم بھی کھل جاؤ گے دو چار ملاقاتوں میں
تم سے صدیوں کی وفاؤں کا کوئی ناطہ تھا
تم سے ملنے کی لکیریں تھی مرے ہاتھوں میں
تیرے وعدوں نے ہمیں گھر سے نکلنے نہ دیا
لوگ موسم کا مزہ لے گئے برساتوں میں
اب نہ سورج نہ ستارہ ہے نہ شمع ہے نہ چاند
اپنے زخموں کا اجالا ہے گھنی راتوں میں
سعید راہی
دھیان میں رَکھی ہی نہیں اچھائی" بُرائی
ہم نے چاہا تُجھےخیر و شَر سے مُبرا ہو کر
میں کہتی تھی بُھلا دو گے، مگر تم روز کہتے تھے
مرے جتنے مراسم ہوں میں تم کو کھو نہیں سکتا
کسی کو اس سے بڑھ کر اور بھی کوئی سزا ہوگی؟
اسے جتنا بھی رونا ہو وہ کھل کر رو نہیں سکتا
بھلے جتنی کرو کوشش کہ جتنی بھی صدائیں دو
جسے اوروں کا ہونا ہے، تمہارا ہو نہیں سکتا...!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain