وُہ مانگتا ہے مُجھ سے چاہت کے ثبُوت اب بھی
اب تک کی پرستِش کو وُہ خاطِر میں نہیں لاتا_
جاؤ لے جاؤ نیند میری اف نہ کہیں گے ہم
جو لے جاؤ گے خواب میرے تو کیسے جئیں گے ہم ۔
ہائے یہ یکطرفہ محبت
ہائے میرا ان کے لیے بیقرار ہونا۔۔
اک روز تجھے کوئی اور بھلا لگنے لگے گا،
ہم لوگ کہاں تک تجھے درکار رہیں گے_!!
ماحول مناسب ہو تو ____اوپر نہیں جاتے
ہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتے
دیکھو مجھے اب ___مری جگہ سے نہ ہلانا
پھر تم مجھے ترتیب سے رکھ کر نہیں جاتے
سو تم مجھے حیرت زدہ آنکھوں سے نہ دیکھو
کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں سب مر نہیں جاتے
تُم "ذمےدار "ہو میری ان اداس آنکھوں کے۔۔۔۔
تُم مانو۔۔۔۔۔
کے تُم سے "حفاظت" نہیں ہوئی میری۔۔۔۔۔
جنوری کی کتنی شامیں آئیں
آکر بیت گیں .
دل نے کبھی کوئی آہٹ
کوئی دستک محسوس نہ کی.
لیکن اتنے برسوں بعد
آج کی شام میں جانے کیا ھے
دائیں آنکھ کا دایاں کونہ
بھیگ گیا ھے...!!
خاموش زبان، اداس دل ،سوئے ہوئے، نصیب
اے زندگی تیرے تحفوں پے ہم آہ کریں یا واہ؟
مجھ سے ٹوٹے ہوۓ شیشے نے کہا تھا اک دن,,
کتنا ملتا ہے نا ، مجھ سے تمھارا چہرہ~!!
دل کی خاموشی سے سانسوں کے ٹھہر جانے تک
یاد آئے گا مجھے وہ شخص مر جانے تک۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے الفت کے بھی پیمانے بنا رکھے تھے
میں نے چاہا تھا اسے حد سے گزر جانے تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت گہرا ہے سکوں، بہت اجلی ہے خاموشی
بہت آباد لہجے میں، بہت سنسان ہے کوئی
کیا زندگی ہے مُحسن کٹھ پُتلیوں کی مانِند
دھاگے پرائے ہاتھ میں ، بس ناچتے رہو
وہ تن کا تماشائی رہا، مَن نہیں دیکھا
دہلیز تک آیا بھی تو آنگن نہیں دیکھا
اِس سمت سمیٹوں تو بکھرتا ہے اُدھر سے
دُکھ دیتے ہوئے یار نے دامن نہیں دیکھا
*مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیں*
*آ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لئے آ*
*اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میں*
*آ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ*
آواز تیری مجھ میں پھر جان ڈال دے گی
تُو برا اگر نا مانے تجھے اِک کال کر لوں ،،!
وہ آئینے سے اگر مطمئن نہیں ہے تو پھر
ہماری آنکھیں ____ بطور آئینہ قبول کرے
برا لگے گا ہمیں گر _____ ہمارے ہاتھ سے پھول
تیرے علاوہ کوئی _______ دوسرا قبول کرے
اِک تیرے ہونے سے میرے دل کے آنگن میں ـــ!
پھول اپنی شاخوں پہ کِھل اُٹھتے ہیں ـ
رَتجگوں میں تِری یاد آئی تو احساس ہُوا
اِک زمانے میں تِری نیند کی راحت ہم تھے!
الفاظ کی تلخیاں میری وضاحتوں کے قابل نہیں
" میرے سکوت کا تھپڑ کافی ہے ہر گستاخ لہجے کے لئے.
رسمی سا میل جول تھا، سمجھا کہ عشق هے
دل نے بڑے یقیں سے، کتابِ گُماں پڑھی۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain