بلا کی دھوپ سے آئ ہوں میرا حال تو دیکھو بس اک کام کرو تم سایہ دیوار ہو جاؤ
نفسا نفسی کے اس دور میں اگر کوئ تمہیں مخلص مل جاۓ تو اسے آزمانے نہ لگ جانا
یونہی گزر جانی ہے ذندگی
جو وقت ہے اسے خوش ہو کر گزارو
تھوڑی سی خوشی تھوڑا تھوڑا غم
آنکھوں میں کہیں سپنے نہ ہو کم
دل سنبھل جا ذرا پھر محبت کرنے چلا ہے تو
پھر آپ کے نصیب میں یہ رات ہو نہ ہو
شائد پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو
مجھے کھا گئے میرے اپنے ہی
کتنے آستین میں چھپے تھے یہ آج پتہ چلا
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں اندر ہی اندر کھا جاتی ہیں ہم چاہ کر بھی کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتے
پھر عادت سی ہو گئ جینے کی سہنے کی اور سہ کر چپ رہنے کی
صبح بخیر
کیسے کہ دوں کہ چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائ کی
ہاتھ میں تیرا ہی ہاتھ ہو
خوشی میری ہر پل تیرے ساتھ ہو
ہمسفر تیری بن کہ رہوں
منزلیں مشکل ہو تو میں پاس رہوں
اپنے آپ کے سوا کوئ اپنا نہیں ہوتا
معلوم نہیں ذندگی مجھ سے کیا چاہتی ہے
ہر روز اک نیا شخص بے نقاب ہو جاتا ہے
میں گلاب چنتی ہی رہ گئ اور وہ شخص میرے شہر سے گزر بھی گیا
عشق ------ رسم و رواج کیا جانے
یہ طریقے یہ طور کچھ بھی نہیں
وہ ہمارے --- ھم ان کے ھو جائیں
بات اتنی ھے اور کچھ بھی نہیں
قرارِ دل و دنیا آپ کی بانہوں میں لرزاں ہیں
سہارے دیکھ کر زلفِ پریشاں لڑکھڑاتـے ہیں
تری آنکھوں کے افسانے بھی پیمانے ہیں مستی کے
بـنامِ ہوش مدہوشی کــــے عنواں لڑکھڑاتــــے ہیں
دوسروں کی ذندگی جہنم بنا کر لوگ پتہ نہیں کیسے سجدوں میں سکون مانگتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain