جب تک سہتے رہو گے یہ دنیا درد دیتی رہے گی
جب بات ہمارے کردار پہ آئ
تو گونگوں کے منہ میں بھی زبان آ گئ
جب آپ کو لگے کہ آزمائشیں حد سے بڑھ گئ ہیں تو یقین جانۓمیرا رب اک بہترین مقام عطا کرنے والا ہے
جس شخص نے کانٹوں پہ اک عمر گزاری ہے
دل چیز ہے کیا جاناں یہ جاں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت نے چھین لی چہرے کی مسکراہٹ
ورنہ ہم ایسے نہیں تھے جیسے اب ہو گۓ
بدل جاتے ہیں لوگ بھی
بدلتے موسم سے کیا گلہ کرنا
ہم ہر کسی کی نظر میں اچھے نہیں بن سکتے
عداوتیں تھی رکاف تھا رنجشیں تھی مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی
کوئی رات میرے آشنا مجھے یوں بھی تو نصیب ہو
نہ رہے خیال لباس کا وہ میرے اتنے قریب ہو
کوبہ کو پھیل گئ بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کچھ تو مجھے موسم ہی کم راس آۓ
اور کچھ میری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی
کاش وقت اتنی جلدی نہ گزرتا اس وقت کی رفتار نے بہت سے پیارے چھین لۓ
کچھ لوگ بس نام کے ہی آپ کے ساتھ ہوتے ہیں جب وقت پڑتا ہے تو غیر پھر کام آ جاتے ہیں اپنے نہیں آتے
پتجھڑ میں ہی پتہ لگتا ہے کہ سوکھے پتوں کے گر جانے سے شجر کتنے خالی لگتے ہیں
مجھے نہیں آتی یہ بناوٹیں باتیں
شائد اس لۓ سب کی نظر میں بری رہی
آج جتنے بھی ہاتھ اٹھیں تیری بارگاہ الٰہی میں یا رب سب کی جائز حاجات کو پورا فرما دے مالک
مجھے راس نہ آئ یہ محبت
کھا گئ دل کو ویران بنا گئ
جو گھر میں سب سے ذیادہ لاڈلے ہوتے ہیں ذندگی ان کے لۓ سب سے مشکل ہوتی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain