شوق ہی نہیں رہا خود کو سہی ثابت کرنے کا
جس نے جیسے سمجھ لیا ویسے ہی ہیں ہم
اداسی کا سبب پوچھتے ہیں لوگ دل کو جلا کر مزہ لوٹتے ہیں لوگ
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
بہت تکلیف دیتے ہیں اپنوں کے بدلے ہوۓ لہجے اور روئیے
ذندگی اتنی سستی تو نہیں جو بے قدروں کے حوالے کی جاۓ
یہ دل جو رہا ہے تو کہیں سے صبر مل جاۓ کوئ امید ٹوٹے تو کیا کریں
اگر شک دل میں آ جاۓ بھروسے ٹوٹ جاتے ہیں
بھروسے ٹوٹ جاۓ تو
تو اپنے روٹھ جاتے ہیں
یہ کیا ستم ہے کہ محفل محفل شناسائی کرو
کبھی تو ایسا کرو کہ خود سے ہی گمنام ہوجاؤ
باتیں خوشبو کی مانند کرو اگر چہ پھیلے تو ہر سو خوشیاں بکھیرے
دسمبر کا سماں وہ بھیگی بھیگی سردیاں
وہ موسم کیا ہوا نہ جانے کہاں کھو گیا
بس یادیں باقی؟۔؟۔
سپنوں میں آؤ پیا کرو ساری باتیں
رو رو گزاری پیا کیسی کیسی راتیں
تم کو بھلاؤ کیسے مانے نہیں جیارہ
ادھورے خواب
ادھوری خواہشیں
گمنام سی زندگی
بے چین سی روح
سن لو سن سکو تو تم کو آنسوں پکارے
محبتوں کو سمجھ نہ پاۓ
حسین رشتے نہیں نبھاۓ
تمھارے جانے کے بعد ہم بھی
کہیں سکوں سے نہ رہ پاۓ
ہر اک رستے پہ رک رکی ہے
عجیب اپنی یہ زندگی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain