مجھے نہیں ہے تمنا دوسرے لوگوں کی
میری ذات سے وابستہ ہیں کچھ لوگ
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی ہے مر جانے کو جی چاہتا ہے
درد میں بھی یہ لب مسکرا جاتے ہیں
بیتے لمحے ہمیں جب بھی یاد آتے ہیں
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں ہم کسی کو بتا ہی نہیں سکتے
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم کسی کو دکھا ہی نہیں سکتے
جب تک ٹھوکر نہ لگے عقل اور آنکھوں پہ بندھی پٹی نہیں اترتی
اب کے برس ساون میں رو کر دل کے زخم چھپاۓ گے
دل میں جلے ہیں جو انگارے شائید وہ بجھ جائیں گے
دنیا کے سہارے بہت کمزور ہیں یا رب مجھے اپنی ذات کے سوا کسی کا محتاج نہ کرنا
چڑھا منصور سولی پر جو واقف تھا وہی دلبر
ارے ملا جنازہ پڑھ میں جانو میرا خدا جانے
لذت غم سے آشنا ہو کر
اپنے محبوب سے جدا ہو کر
دل کہیں جب سکوں نہ پاۓ گا
تم کو اک شخص یاد آۓ گا
جب تک سہتے رہو گے یہ دنیا اور اسکے لوگ درد دیتے رہیں گے
ابھی تک میری روح بے چین ہے ابھی تک میرا دل ہے بیتاب سا
یہ مانا کہ تم سامنے ہو میرے مگر مجھ کو لگتا ہے اک خواب سا
کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضہ ہے
غم دنیا سے گھبرا کر تمہیں دل نے پکارا ہے
شوق ہی نہیں رہا خود کو سہی ثابت کرنے کا
جس نے جیسے سمجھ لیا ویسے ہی ہیں ہم
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain