دور تک چھاۓ تھے بادل کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
عجب سا ہے میرے تمھارے بیچ
کبھی کچھ ہے کبھی نہیں
کبھی اتنے قریب کے جل جاۓ
کبھی اتنے ہو دور کی آنکھیں ترس جاۓ
ایسے بھی آتے ہیں دن جیتے ہیں لوگ لیکن ہوتا ہے اور سب کچھ پر جان نہیں ہوتی
طبیعت کافی ناساز ہے دعاؤں کے لۓ درخواست ہے سب سے
خوشبو کوئ اس کی باتوں میں ہے
سبھی فیصلہ اس کے ہاتھوں میں ہے
حسبناللہ نعملوکیل
وقت کی ہاتھوں رسوا ہوۓ
جب وہ لوٹ کر آۓ تو کچھ بھی نہ رہا
ویسے تو سب بہت اچھا ہے مگر اکثر جب تھک جاؤ تو ماں باپ کی چھاؤں بہت یاد آتی ہے
وہ بھی زمانہ تھا یہ بھی زمانہ ہے
شام سویرے رہتے تھے جس میں وہ دل توڑ دیا
تم نے بھلایا کیوں جی کو جلا کیوں
مل کے چلے تھے پھر کیوں تم نے رستے میں چھوڑ دیا
وہ دل توڑ دیا
وقت کے ساتھ صبر آ ہی جاتا ہے
کوئ کسی کے چھوڑ جانے سے مر نہیں جاتا
دن جو گزرا تو کسی یاد کی لو میں گزرا
رات آۓ تو کوئ خواب دکھا کر گزری
تجھ سے کیا کہتے تیرے پاس جو آ کر گزری
ذندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کہ گزری
سہاروں سے ذندگی نہیں گزرا کرتی
الگ راستوں پر چلنا بھی اپنا ہی فن ہے
مجھے نہیں ہے تمنا دوسرے لوگوں کی
میری ذات سے وابستہ ہیں کچھ لوگ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain