لازمی نہیں ہے کہ ہر رشتے کو عشق و محبت سے منسوب کرو
احساس اور انسانیت بھی کچھ معنی رکھتی ہے
خالی جگہیں جہاں پر ہوتی ہیں
سفر تو روز کا ہے مگر اب جانا کہاں ہے
الوداع اس سال کو اور الوداع ان لوگوں کو بھی جن کے ہم قابل نہیں تھے
بے قرار یہ دل تیرا پاگل ہے سمجھے نہ
ہر اک کی نظروں میں سما جائے اتنے آسان تو نہیں
کچھ نظروں میں کھٹکنے کا بھی الگ ہی مزہ ہے
وہ باتیں سب یاد ہیں
وہ راتیں سب یاد ہیں
دسمبر کا سماں
وہ بھیگی بھیگی سردیاں
وہ موسم کیا ہوا
نہ جانے کیا کھو گیا
وہ بس یادیں باقی
کیا کروں مجھے یہ بتاۓ
یہ برکھا کی بوندیں تجھ کو بلاۓ
تیرے پاس جو سہارا ہے یہ پیار کا
کہیں نہیں ملتا کنارہ مجھے پیار کا
دنیا میں حسیں اور بھی ہیں
ہوگا نہ کوئ تیرے جیسا حسیں
بھیگی بھیگی راتوں میں پھر تم آؤ نہ
ایسی برساتوں میں آؤ نہ
روٹھ جانا اور پھر منا لینا یہی دنیا کا دستور ہے
اک تمنا لا حاصل سی
درد میں بھی یہ لب مسکرا جاتے ہیں بیتے لمحے ہمیں جب بھی یاد آتے ہیں
کوئ رشتہ بھی مخلص نہیں ہوتا
سواۓ رب کی ذات کے کوئ اپنا نہیں ہوتا
ڈھلتا ہوا دسمبر ہے سب کی خطاؤں کو معاف کر دو
کیا پتہ اگلے دسمبر میں ہم ہوں یا نہ ہوں
وقت ہی ہمیں بتاتا ہے کہ کون ہمارا اپنا ہے اور کون پرایا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain