ناولز میں جو کہانیاں لکھی ہوتی ہیں۔ در حقیقت وہ کہانیاں ہی ہوتی ہیں۔ مگر پھر بھی کُچھ نادان لوگ اسے حقیقت سمجھ کر اس پر یقین کرنے لگتے ہیں۔جِس کی وجہ صرف اور صرف وہ افسانوی کردار ہوتے ہیں جس کا اصل میں کوئی تصور ہی نہیں ہوتا اور وہ شخص پھر اپنی زندگی میں بھی وہی کُچھ چاہتا ہے جو اُن کہانیوں میں ہوتا ہے۔بس زیادہ تر بدنصیب لوگوں کو وہ سب کچھ میسر نہیں ہوتا اور پھر وہ لوگ اپنی قسمت کو برا بھلا کہہ کر مایوسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں..