تلخ رویوں سے خاموشی
بہتر ہے
مجھ سے اونچا تیرا قد ہے حد ہے
پھر بھی سینے میں حسد ہے حد ہے

میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے حد ہے 
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے

عشق میری ہی تمنا تو نہیں
تیری نیت بھی تو بد ہے، حد ہے
زندگی کو ہے ضرورت تیری
اور ضرورت بھی اشد ہے، حد ہے

بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن
چاند بس ایک عدد ہے، حد ہے
اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ ترے ضبط کی حد ہے؟ حد ہے

روک سکتے ہو تو روک لو
یہ جو سانسوں کی رسد ہے، حد ہے
ڈی ڈی ایم پر زیادہ تر لوگوں کی ہینڈ رائٹنگ ایک جیسی ہے
چارمنگ ابزوربینگ
ڈیلیشیس
ایجوکیٹڈ اسٹوپڈ
نونسز
شبنم ھے کہ دھوکا ھے کہ جھرنا ھے کہ تم ھو
دل دشت میں اِک پیاس تماشہ ھے کہ تم ھو

اِک لفظ میں بھٹکا ھُوا شاعر ھے کہ میں ھُوں
اِک غیب سے آیا ھُوا مِصرع ھے کہ تم ھو

دروازہ بھی جیسے میری دھڑکن سے جڑا ھے
دستک ھی بتاتی ھے پرایا ھے کہ تم ھو

اِک دُھوپ سے الجھا ھُوا سایہ ھے کہ میں ھُوں
اک شام کے ھونے کا بھروسہ ھے کہ تم ھو

میں ھُوں بھی تو لگتا ھے ، کہ جیسے میں نہیں ھُوں
تم ھو بھی نہیں ، اور یہ لگتا ھے کہ تم ھو
تصنیف میں میرے اشعار ہی بدل گئے
بدل گئے تحریر کردار بھی بدل گئے
لکھتا تھا خوشیوں پر مضمون اب تو عنوان ہی بدل گئے
تم بھی بدلے ہو کُچھ یا صرف ہم ہی بدلے ہیں
درد اور زخم تو ویسے ہیں مگر اظہار بدل گئے
کُچھ فرق نہیں پڑا مکاں کیا در و دیوار بھی بدل گئے
تسکین ملے مُجھے کیسے اب تو ہی بتا
نہیں مِلتا کہی بھی ہم تو غمِ یار بھی بدل گئے
میری نیند آ میری بات سن
تیری آہٹوں کو ترس گئے
جو بچھڑ گئے ہیں دکھا مُجھے
میرے خواب سے تو ملا مُجھے
اب لوٹ آ یو سلا مُجھے
نہ تھکا انہیں یو رول کر
کبھی موندھ کر کبھی کھول کر
گویا بخت آنکھوں کے مر گئے
یہاں قحط نیندوں کے پڑ گئے
میری نیند آ میری بات سن
کھلی آنکھوں سے سونے کی اذیت مار دیتی ہے
ہمیں تو نیند کی بے معنویت مار دیتی ہے۔۔
ثمر کی کوکھ میں اک ذائقہ محفوظ ہونے تک
شجر کو موسموں کی بربریت مار دیتی ہے
سہارے کے لیے مضبوط بنیادیں ہی کافی ہیں
مگر دیوار کو پانی کی نیت مار دیتی ہے
کہیں ورثے میں اندھی خواہشیں پروان چڑھتی ہیں
کہیں زندوں کو مردوں کی وصیت مار دیتی ہے
کسی کو عمر بھر کی آشنائی کچھ نہیں دیتی
کسی سے لمحہ بھر کی اجنبیت مار دیتی ہے
انا پر بوجھ ہوتی ہیں کہیں بے شکل آوازیں
کہیں خاموشیوں کی اکثریت مار دیتی ہے
صبر بے مثل تھا ہمت تھی بلا کی میری۔۔۔۔۔

پر بات تیری تھی سہنے میں ذرا وقت لگا۔۔۔
سنورنے لگے تھے کہ مزید بگڑ گئے
کُچھ اسطرح کا ظلم وہ کر گئے
اب ندامت ہو رہی ہے اُن لمہوں پر
جنہیں گذرنا تھا وہ تھم گئے
بے رُخی کا کوئ گِلہ نہیں نہ کوئی شکایت تیرے رویوں کا
ایک طنز سا رہ گیا جو مہربانی تم کر گئے
سراپا احتجاج ہوں میں خود کو کوستا ہوں
تمہیں معلوم کیا تم کیا کیا کر گئے
اشک تو بہینگے تیرے بھی رُخسار پر
تمہیں کیا معلوم تم کیا سے کیا کر گئے
تسلی دوں میں خود کو کُچھ اِس طرح
معصوم تھے وہ تم بتاؤ تم کیا کیا کر گئے
صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے
میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے

پھر اس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا
میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

پھر اس کے بعد عطا ہو گئی مجھے تاثیر
میں رو پڑا تھا کسی کو غزل سناتے ہوئے

خریدنا ہے تو دل کو خرید لے فوراً
کھلونے ٹوٹ بھی جاتے ہیں آزماتے ہوئے

تمہارا غم بھی کسی طفل شیرخار سا ہے
کہ اونگھ جاتا ہوں میں خود اسے سلاتے ہوئے

اگر ملے بھی تو ملتا ہے راہ میں
کہیں سے آتے ہوئے یا کہیں کو جاتے ہوئے
دعوٰی کیا تھا ضبطِ درد کا اے دل۔۔۔

ظالم نے بات بات پہ تڑپا کے رکھ دیا۔۔۔
در بدر ہو گئے تعبیر کی دھن میں کتنے

ان حسیں خوابوں سے بڑھ کر کوئی سفاک نہیں
ﺍﺩﺍﺱ ﺭﺍﮨﯿﮟ، ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺁﮨﯿﮟ، ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻘﺪﺭ، ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺛﺎﺛﮧ 
ﻃﻮﯾﻞ ﮐﺎﻭﺵ ﭘﺲِ ﺳﻔﺮ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻼﺻﮧ
آداب عرض ہے
خواتین و حضرات
باتیں طویل ہو تو باتیں کرنا آسان ہے۔
جب ہوجائے مختصر تو رخصتی بہتر ہے
بادل تو آگئے
بس بارش برسنی ہے
ڈی ڈی ایم پر ہر لڑکی حاجڑ اور
اور ہر لڑکا ٹھرکی ہوتا ہے?؟
چپ چپ کر پوسٹ دیکھنے سے تمہارا ہی بلڈ پریشر بڑے گا
خود کو جلانے سے بہتر ہے کہ پوسٹ پر کمنٹ کر دیا کرو؟
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain